سارا نظام ایک کاکے کے سپرد ہے، جس کی حیثیت ذاتی ملازم سے زیادہ نہیں، مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد ٹریٹری کیلئے دو کمیٹیاں بنی ہیں، ایک میں بھی ’کاکاجی‘ ہے اور دوسری میں بھی کاکاجی ہے، دونوں کی رپورٹ میں تضاد ہے، ایسے عقل والے ہم پر مسلط ہیں؛ لاہور میں تقریب سے خطاب

لاہور(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملکی نظام، اسٹیبلشمنٹ اور نئے صوبوں کی تشکیل کی کوششوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے کی سیاست اب نہیں چلے گی۔ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈمی نمائندے حکومت کر رہے ہیں اور اقلیت ملک پر حکمران ہے، سارا نظام ایک ایسے ’کاکے‘ کے سپرد کر رکھا ہے جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے زیادہ نہیں ہے، اسلام آباد ٹریٹری کیلئے دو کمیٹیاں بنی ہیں، ایک میں بھی ’کاکاجی‘ ہے اور دوسری میں بھی کاکاجی ہے، دونوں کی رپورٹ میں تضاد ہے، تو کیا ہم پاکستان ایسے ذاتی نوکر کے حوالے کریں؟ ہم اس ملک میں رہیں گے اور اپنے ضمیر کے مطابق سچی بات کریں گے، ہم آپ کی خیر خواہی چاہتے ہیں مگر آپ کو صرف خوشامد کی زبان اچھی لگتی ہے۔
اسلام آباد ٹریٹری کیلئے دو کمیٹیاں بنی ہے،ایک میں بھی کاکاجی(محسن نقوی) ہے اور دوسرے میں بھی کاکاجی(محسن نقوی) ہے، دونوں کی رپورٹ میں تضاد ہے،تو کیا ہم پاکستان ذاتی نوکر کے حوالے کرے، مولانا فضل الرحمان pic.twitter.com/ZZPhnU0SvN
— Shahid Jan (@shahidjan612) September 8, 2026
سابقہ اور موجودہ ملکی حالات کا موازنہ کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ماضی میں اسی فوج کی حکومت تھی جس نے چاروں صوبوں کو یکجا کرکے ون یونٹ مغربی پاکستان بنایا تھا، لیکن اب اس فوج کی سوچ بدل چکی ہے اور صوبوں کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، گھر کے کمروں میں ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے اور ہمارے بھائی کہہ رہے ہیں کہ آؤ گھر کی تقسیم کرتے ہیں، کیا یہ کوئی عقل والی بات ہے؟ ایسے عقل مند ہمارے اوپر مسلط کیے گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے وضاحت کی کہ ہم اصولاً نئے صوبے بنانے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اس کے لیے وقت، حالات اور قومی اتفاقِ رائے کو دیکھنا ضروری ہے، پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے مگر اس کی دلچسپی صرف سندھ کی حد تک محدود ہے، دوسری طرف مسلم لیگ ن بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اس کی حیثیت ایک غلام سے زیادہ نہیں، نئے صوبوں یا کسی بھی آئینی تبدیلی پر یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے کھلی بحث ہونی چاہیے کیونکہ طاقت کے بل بوتے پر اب کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
