پی ٹی وی اینکرز اور رپورٹرز کے بیرونِ ملک دوروں کے اخراجات قومی سلامتی کا معاملہ قرار

ان اخراجات کی تفصیلات ادارے کے سرکاری اور خفیہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، ایسی معلومات افشاء کرنے سے سکیورٹی معاملات و دیگر حساس پہلو سامنے آ سکتے ہیں؛ صحافی سعدیہ مظہر کی درخواست پر پی ٹی وی انتظامیہ کا جواب


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) انتظامیہ نے اینکرز، رپورٹرز اور شعبہ خبریں کے سربراہان کے بیرونِ ملک دوروں پر آنے والے سرکاری اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی اور حساس سیکیورٹی کا معاملہ قرار دے دیا ہے۔ خاتون صحافی اور اینکر پرسن سعدیہ مظہر کے مطابق حقِ معلومات قانون کے تحت پی ٹی وی انتظامیہ کو ایک باضابطہ درخواست ارسال کی تھی، جس میں بیرونِ ملک جانے والے رپورٹرز اور ہیڈز کے سفر اور ان پر خرچ ہونے والے سرکاری فنڈز کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
پی ٹی وی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سعدیہ مظر کی جانب سے دائر کردہ مذکورہ اپیل میں ان تمام عہدیداران/افسران کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جنہوں نے جنوری 2025ء سے تاحال کسی بھی تقریب کی کوریج یا اس میں شرکت کے لیے عوامی خرچ/حکومتی اخراجات/پی ٹی وی کے خرچ پر بیرونِ ملک سفر کیا۔


یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پی ٹی وی کے افسران یا عہدیداران کو وقتاً فوقتاً سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں بیرونِ ملک دوروں پر بھیجا جاتا ہے، جن میں وزیراعظم کے دوروں کی کوریج، اعلیٰ سطحی حکومتی مصروفیات، بین الاقوامی کانفرنسز اور دیگر اہم سرکاری اجلاس شامل ہیں، ایسی سرکاری ذمہ داریوں کی نوعیت اور ضروریات کے مطابق مخصوص ٹیمیں تشکیل دے کر متعلقہ افسران یا عہدیداران کو ان ذمہ داریوں کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔
پی ٹی وی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان تعیناتیوں سے متعلق تفصیلات، جن میں افسرانیا عہدیداران کے نام، ٹیموں کی تشکیل، ذمہ داریوں کی نوعیت اور حکومت یا پی ٹی وی کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات شامل ہیں، ادارے کے سرکاری اور خفیہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، ایسی معلومات کا افشاء سرکاری تعیناتیوں، سکیورٹی سے متعلق امور، انتظامی و عملی انتظامات اور اعلیٰ سطحی سرکاری مصروفیات کے دیگر حساس پہلوؤں سے متعلق معاملات کو متاثر کرسکتا ہے۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ ایسی تفصیلات عام طور پر تیسرے فریق کو فراہم نہیں کی جاتیں، جب تک کہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے اس کی باقاعدہ اجازت نہ ہو اور متعلقہ قوانین و ضوابط کے تحت اس کی اجازت نہ دی گئی ہو، مذکورہ بالا وضاحت کی روشنی میں معزز کمیشن سے درخواست ہے کہ ہماری پیش کردہ گزارشات کو منظور کرتے ہوئے ’رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ‘ کی دفعہ 16 (d) (ii & iii) کے تحت استثنیٰ فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔
سعدیہ مظہر نے پی ٹی وی انتظامیہ کے اس مؤقف اور قومی خزانے کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں اور قومی خزانے سے بے دریغ اخراجات کیے جاتے ہیں لیکن جب کوئی شہری یا صحافی سوال پوچھے تو ‘قومی سلامتی کو خطرہ’ قرار دے کر معاملے کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، پی ٹی وی کے اس انکار اور مؤقف کے خلاف میں پاکستان انفارمیشن کمیشن میں تمام قانونی دلائل اور شواہد جمع کرواچکی ہوں تاکہ عوامی فنڈز کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert