سپریم کورٹ کا بھارت سے ہجرت کر کے آنے والی بیوہ کے حق میں بڑا فیصلہ، ماتحت عدالتوں کے احکامات کالعدم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا سال 2000 کا حکم اور ہائیکورٹ کا سال 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے تحریر کیے گئے اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ متنازع زمین کبھی مرحوم عبدالکریم کی ملکیت نہیں بلکہ ہجرت کر کے آنے والی بیوہ کو الاٹ کی گئی تھی۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عبدالکریم پاکستان بننے سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ،کارٹون بنانے کی سزا، اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، بھارتی سیکولر چہرہ سے بھی پردہ ہٹ گیا
قیامِ پاکستان کے بعد مرحوم عبدالکریم کی بیوہ نواب بی بی نے نقل مکانی کرنے والے فرد کی حیثیت سے پاکستان میں مستقل آباد کاری کے لیے ذاتی نوعیت کی زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست دائر کی تھی۔
یہ درخواست بھارت میں نقل مکانی کے سبب چھوڑی گئی جائیداد کے عوض زمین کے حصول کے لیے دی گئی تھی۔
چیف سیٹلمنٹ اتھارٹیز نے بیوہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سال 1963 میں انہیں زمین الاٹ کر دی تھی، جس کے بعد بیوہ نے وہ زمین اپنی بیٹی کو تحفے میں دے دی تھی۔
فریقین کی جانب سے اسی تحفے میں دی گئی زمین کے اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا، جس پر طویل قانونی جنگ جاری رہی۔
عدالتِ عظمیٰ کے اہم ریمارکس
سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ فریقین نے نہ تو بھارت سے ہجرت کر کے آنے کا کوئی دعویٰ کیا اور نہ ہی خود کو نقل مکانی کرنے والے افراد کے طور پر پیش کیا۔
عدالت نے مزید کہا کہ مرحوم عبدالکریم کے کسی بھی رشتہ دار کا جائیداد پر دعویٰ صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے جب وہ بھارت میں چھوڑی گئی زمین کی حد تک ہو۔
فریقین نے جس زمین پر اپنے حصے کے حصول کا دعویٰ کیا تھا، وہ حقیقت میں کبھی عبدالکریم کی ملکیت تھی ہی نہیں، بلکہ یہ جائیداد ایک بے گھر ہجرت کرنے والی بیوہ خاتون کو خصوصی طور پر الاٹ کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کرنے والے بے گھر افراد، خصوصاً خواتین کے حقوق اور جائیداد کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
تقسیمِ ہند کے دوران لاکھوں افراد نے جو مصائب جھیلے اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کیا، اس فیصلے نے ان کے حقوق کو واضح کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
عدالت نے یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی شخص یا اس کے رشتہ داروں کا دعویٰ صرف ان اثاثوں تک محدود ہو سکتا ہے جو قانونی طور پر ان کے نام تھے اور حکومت کی جانب سے مہاجرین کو بحالی کے لیے دی جانے والی زمینیں ذاتی الاٹمنٹ کے زمرے میں آتی ہیں جن پر سابقہ حق ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

WhatsApp
Get Alert