وزیراعظم شہباز شریف کا اہم فیصلہ، کسانوں، چھوٹے کاروبار اور ’اپنا گھر‘ سکیم کے لیے قرضوں کی فوری فراہمی کا حکم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں معاشی پہیہ تیز کرنے کے لیے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور ’اپنا گھر‘ پروگرام کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔
اسلام آباد میں ’ایکسیس ٹو فنانس پلان 28-2026‘ کے جائزہ اجلاس میں انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ان بینکوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے گی جو عوامی فلاح کے اس عمل میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے زرعی شعبے کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ کسانوں کو مالی وسائل تک آسان اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔
بریفنگ کے دوران انکشاف کیا گیا کہ اگست 2026 تک بینکوں کی جانب سے زرعی شعبے کو 1 کھرب 26 ارب 80 کروڑ روپے کے

قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اپنی چھت اپنا گھر پروگرام میں ریکارڈ درخواستیں، رواں مالی سال قرضوں کی فراہمی کا ہدف دوگنا کردیا گیا
’ایکسیس ٹو فنانس پلان 28-2026‘ کے تحت جون 2028 تک اس شعبے کے لیے قرضوں کا ہدف 2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں، کسانوں کی سہولت کے لیے متعارف کرائی گئی ’زرخیز‘ ایپ کے ذریعے اب تک 35 ہزار 838 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 7 ارب 35 کروڑ روپے کے قرضے منظور کیے گئے ہیں اور 1 ارب 96 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
’وزیراعظم اپنا گھر‘ پروگرام اور رہائشی سہولیات
کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس حوالے سے شہباز شریف نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ ایسی جائیدادوں کا جامع سروے کیا جائے جنہیں ’وزیراعظم اپنا گھر‘ پروگرام کے تحت رہن (مارجن) رکھ کر بینکوں سے قرض لیا جا سکے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس پروگرام کے تحت اب تک 1 لاکھ 47 ہزار 504 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے 53 ہزار 127 درخواستیں منظور کی گئی ہیں جن کی مجموعی مالیت 313 ارب 42 کروڑ روپے بنتی ہے۔
اب تک 8 ہزار 739 خوش نصیب درخواست گزاروں کو 45 ارب 43 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
ملک بھر میں رہن کی شرائط پر پورا اترنے والے پلاٹس کی نشاندہی کے لیے ایک جدید نظام تیار کیا جا رہا ہے، جس کا پائلٹ پراجیکٹ اسلام آباد سے شروع ہوگا۔ اس عمل میں معروف ہاؤسنگ ڈویلپرز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) کا فروغ
معیشت میں نچلی سطح پر روزگار پیدا کرنے والے چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگست 2026 تک اس شعبے کو بینکوں کی جانب سے 1 کھرب 6 ارب 70 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔
اس شعبے کے لیے بھی جون 2028 تک قرضوں کا ہدف 2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، ’ایس ایم ای ڈی اے‘ (سمیڈا) نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران 1 ہزار 96 چھوٹے کاروباری اداروں کو مالیاتی امور سے متعلق خصوصی تربیت بھی فراہم کی ہے۔
اجلاس کے اہم شرکا
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان شریک تھے۔
ان کے علاوہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز اور پاکستانی بینکوں کے صدور و چیف ایگزیکٹو افسران نے بھی شرکت کی۔
پاکستان کی معیشت میں کمرشل بینکوں کا رجحان روایتی طور پر نجی شعبے کے بجائے حکومت کو بھاری سود پر قرضے دینے کی جانب رہا ہے۔
زراعت اور چھوٹے کاروبار ملکی جی ڈی پی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے اور روزگار فراہم کرنے کے باوجود بینکنگ کریڈٹ کے حصول میں ہمیشہ مشکلات کا شکار رہے ہیں۔
ماضی میں ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بھی کئی سکیمیں متعارف کروائی گئیں، لیکن پراپرٹی کے کاغذات اور مارگیج (رہن) کے پیچیدہ قوانین کی وجہ سے عام آدمی کے لیے قرض کا حصول ایک خواب ہی رہا۔
’ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28‘ حکومت کی وہ مربوط کوشش ہے جس کا مقصد بینکوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنا سرمایہ نچلے اور درمیانے طبقے کی معاشی سرگرمیوں میں لگائیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے کسانوں، ایس ایم ایز اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی پر زور دینا معاشی بحالی کی جانب ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ تاہم اصل چیلنج اہداف کے تعین میں نہیں بلکہ ان کے نفاذ میں ہے۔
پاکستان کے بینک انتہائی ’رسک ایورس‘ (خطرہ مول نہ لینے والے) واقع ہوئے ہیں۔ جب تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کے لیے اپنی ’پروڈنشل ریگولیشنز‘ میں نرمی نہیں کرتا، بینکوں کے لیے نچلی سطح پر قرضے دینا مشکل رہے گا۔
’زرخیز‘ ایپ کا استعمال ایک شاندار ڈیجیٹل پیش رفت ہے جو مڈل مین کے کردار کو ختم کر سکتی ہے۔ اسی طرح ’اپنا گھر‘ سکیم کی کامیابی کا سارا انحصار زمین کے ملکیتی حقوق (لینڈ ٹائٹلز) کی شفافیت اور فوری فورکلوزر قوانین پر ہے، جس کے لیے صوبائی حکومتوں کو اپنی روایتی سستی ترک کر کے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھنا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert