میر سرفراز بگٹی آئینی اور منتخب وزیراعلیٰ ہیں، ایوان کی اکثریت پر اعتراض عوامی فیصلے کی توہین ہے: حیات خان اچکزئی
اپنی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالنا پرانی روایت ہے، لشکری رئیسانی اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں: پی پی پی رہنما کا ردعمل

منتخب قیادت کو ریاستی پروجیکٹ قرار دینا ترقیاتی سفر کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے، منفی بیانیے کے بجائے امن اور پائیدار ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کیا جائے
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے رہنما حیات خان اچکزئی کا نوابزادہ لشکری رئیسانی کے بیان پر ردعمل
وزیراعلی میر سرفراز بگٹی بلوچستان کے آئینی اور قانونی عمل کے تحت منتخب شدہ وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کا انتخاب بلوچستان اسمبلی کے اکثریتی ارکان کے ووٹوں اور جمہوری عمل کے ذریعے ہوا ہے۔ جمہوری ایوان کے اندر حاصل کردہ اکثریت کو بلاجواز اعتراضات کا نشانہ بنانا حقیقت میں بلوچستان کے عوام کے دیے گئے فیصلے اور آئینی پروسیس کی توہین ہے۔ حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
نوابزادہ لشکری رئیسانی طویل عرصے سے خود سیاست میں متحرک رہے ہیں اور کئی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ جب عوامی فیصلے اپنے حق میں نہ آئیں تو اداروں اور عمل پر الزامات عائد کرنا پرانی سیاسی روایت بن چکی ہے۔ الزامات تراشی کے بجائے اپنی سیاسی کارکردگی اور عوامی مقبولیت کا ازسرِ نو جائزہ لینا زیادہ بہتر ہو گا۔ حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو اپنے حلقے کے عوام نے ووٹ دے کر ایوان میں بھیجا ہے۔ ان کی عوامی نمائندگی کو مفروضوں سے جوڑنا ان ہزاروں ووٹ دینے والے شہریوں کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے جنہوں نے جمہوریت کے تسلسل پر اعتماد کیا۔حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی ہمیشہ سے بلوچستان میں ریاست کی حاکمیت، امن کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے صفِ اول میں رہے ہیں۔ وہ بلوچستان کو بحرانوں سے نکال کر ترقیاتی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام طبقہ ہائے فکر کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ ان پر لگائے جانے والے سیاسی الزامات بلوچستان کے اصل مسائل اور ترقیاتی سفر سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہیں۔حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
سیاسی جماعتوں کے کردار اور ووٹ کے تقدس کی بات وہی رہنما کر رہے ہیں جو خود مختلف وقتوں میں انہی پارٹیوں اور نظام کے فائدے اٹھاتے رہے ہیں۔ سیاسی اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے، لیکن بلوچستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری اداروں پر بلاجواز شک و شبہات ظاہر کرنے کے بجائے مثبت کردار ادا کیا جائے۔حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
ریاست اور اس کے ادارے بلوچستان میں بدامنی کا خاتمہ، عوامی تحفظ اور سی پیک جیسے اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تکمیل کے لیے رات دن کوشاں ہیں۔ جب بھی کوئی منتخب قیادت امن و امان کی بحالی اور عوامی خوشحالی کے لیے اقدامات کرتی ہے، اسے ریاستی پروجیکٹ قرار دے کر متنازع بنانا دراصل صوبے کے ترقیاتی سفر اور عوام کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش ہے۔ حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
ریاستی اداروں کو ہر سیاسی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانا ایک آسان حربہ بن چکا ہے۔ ریاست تمام شہریوں اور سیاسی عمل کی یکساں سرپرست ہے۔ جب سیاسی شخصیات عوام میں اپنی پذیرائی کھو دیتی ہیں، تو وہ اداروں اور ریاست پر تنقید کر کے اپنی سیاسی بقا قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
ریاست پر تنقید کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ بلوچستان کے غیور عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ایک ایسا پلیٹ فارم منتخب کیا ہے جو صوبے کو استقلال اور یکجہتی کی طرف لے جا سکے۔ ریاستی نظام پر بے بنیاد الزامات لگانا خود ان تمام ووٹرز کی توہین ہے جنہوں نے امن اور جمہوری تسلسل پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
بلوچستان اس وقت کسی بھی قسم کے منفی بیانیے یا محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قیادتیں ریاست پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے بلوچستان میں امن کی بحالی، تعلیم، روزگار اور پائیدار ترقی کے لیے قومی دھارے میں شامل ہو کر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔حیات خان اچکزئی رہنما پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان
