بلوچستان میں گندم کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں، اوپن مارکیٹ سے مہنگی گندم خرید کر سستا آٹا دینا ناممکن ہے: فلور ملز ایسوسی ایشن
پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی اور چیک پوسٹوں پر بھاری اخراجات نے گندم کی لاگت میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے

عوام کو ریلیف دینا ہے تو صوبائی حکومت وفاق سے سرکاری سطح پر سستی گندم منگوائے، آٹا فروشوں پر چھاپے ظلم ہیں: عبدالواحد بڑیچ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن بلوچستان ریجن کے چیئرمین عبدالواحد بڑیچ نے حالیہ دنوں میں انتظامیہ کی جانب سے آٹا فروشوں کے خلاف چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں فلور ملز مالکان کے لیے آٹے کی قیمتوں میں فوری کمی کرنا ممکن نہیں، کیونکہ بلوچستان میں مقامی گندم کے ذخائر تقریباً ختم ہوچکے ہیں اور فلور ملز کو اوپن مارکیٹ سے مہنگے داموں گندم خریدنا پڑ رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں عبدالواحد بڑیچ نے کہا کہ پنجاب سے بلوچستان گندم لانے پر پابندی عائد ہے جبکہ سندھ سے بھی گندم کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جو گندم مختلف ذرائع سے بلوچستان پہنچ رہی ہے، اسے مختلف چیک پوسٹوں پر روکنے اور مبینہ طور پر بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں، جس کے باعث گندم کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلور ملز مالکان اوپن مارکیٹ سے جس قیمت پر گندم خریدتے ہیں، اسی حساب سے آٹے کی قیمت مقرر ہوتی ہے۔ فلور ملز کے پاس ایسا کوئی اختیار یا فارمولا نہیں کہ مارکیٹ میں گندم مہنگی ہونے کے باوجود اچانک آٹے کے نرخ کم کر دیے جائیں،عبدالواحد بڑیچ نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو سستا آٹا فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے سرکاری ذخائر یا پاسکو سے گندم منگوا کر محکمہ خوراک کے ذریعے فلور ملز کو فراہم کرے۔ سرکاری سطح پر سستی گندم دستیاب ہوگی تو اس سے سستا آٹا تیار کرکے عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں گندم کی قیمتیں بنیادی طور پر اوپن مارکیٹ کے تحت چل رہی ہیں، جبکہ صوبے کی موجودہ صورتحال، ٹرانسپورٹ کے مسائل، راستوں کی بندش اور ڈرائیوروں میں پائی جانے والی تشویش کے باعث گندم کی ترسیل بھی متاثر ہورہی ہے۔چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ فلور ملز مالکان اپنی مدد آپ کے تحت دیگر صوبوں سے گندم منگوا رہے ہیں تاکہ گندم کی سپلائی کا سلسلہ برقرار رہے اور خدانخواستہ آنے والے دنوں میں یہ راستہ بھی بند نہ ہوجائے۔انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح دیگر صوبوں نے وفاقی حکومت سے گندم کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے، اسی طرح بلوچستان حکومت بھی فوری طور پر وفاق سے گندم طلب کرے اور سرکاری سطح پر سستی گندم منگوا کر عوام کو آٹے کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرے،عبدالواحد بڑیچ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں گندم کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی نہیں ہونی چاہیے، تاہم اس کے باوجود گندم لانے والی گاڑیوں کو مختلف چیک پوسٹوں پر روکنے اور مبینہ طور پر اضافی رقم وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں، جس سے گندم کی مجموعی لاگت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔یاد رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مقامی فوڈ ڈیپارٹمنٹ عوام کو ریلیف فراہم کررہی ہیں ناکہ اوپن مارکیٹ عوام کو ریلیف فراہم کرتی ہیں
