عمران خان کی شفاء ہسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے احکامات پر آئینی عدالت نے سوالات اٹھا دیئے
نجی ہسپتال کیوں؟ پمز یا پولی کلینک میں علاج کیوں نہیں ہوسکتا؟ تمام قیدیوں سے مساوی سلوک ہونا چاہیے، ہر شخص کیلئے الگ طریقہ کار نہیں ہوسکتا، پرائیویٹ ہسپتال میں علاج جیل قوانین کیخلاف ہے؛ عدالتی ریمارکس

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی آئینی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور بیرونِ ملک مقیم بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطہ کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کی بنیاد پر اڈیالہ جیل کے تین دیگر قیدیوں کی جانب سے دائر کی گئی اسی نوعیت کی درخواستوں پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے فریقین اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے۔
اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی آئینی بنچ نے کیس کی ابتدائی سماعت کی، سماعت کے دوران بنچ کے رکن جسٹس عامر فاروق نے نجی ہسپتال میں قیدی کی منتقلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’کسی بھی قیدی کے علاج کے لیے نجی ہسپتال کو ہی کیوں منتخب کیا جائے؟ سرکاری ہسپتالوں جیسے پمز یا پولی کلینک میں تمام تر ضروری طبی سہولیات کی موجودگی کے باوجود وہاں علاج کیوں نہیں ہو سکتا؟‘۔
Justice Ali Baqar Najfi, who himself allowed Nawaz Sharif travel abroad for medical treatment says that there should not be any discrimination as jail manual is very clear that prisoners will be shifted in govt hospital for treatment. https://t.co/KxPlVuYOCU pic.twitter.com/EA8Gv86Eq8
— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) September 14, 2026
بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر قیدیوں کے وکیل نے بہتر طبی دیکھ بھال اور اعلیٰ سہولیات کو نجی ہسپتال منتقلی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا، سپریم کورٹ کی نظیر سامنے آنے پر چیف جسٹس امین الدین خان نے اس پر مزید آئینی و قانونی سوالات اٹھا دیئے۔
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی، جنہوں نے ماضی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرونِ ملک جانے کی قانونی اجازت دی تھی، انہوں نے بھی جیل قوانین اور یکساں سلوک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ریاست اور قانون کی نظر میں تمام قیدیوں کے ساتھ بلا تفریق مساوی سلوک ہونا چاہیے، جیل مینوئل کے قواعد و ضوابط بالکل واضح اور یکساں ہیں جن کے تحت کسی بھی بیمار قیدی کو علاج کی غرض سے صرف سرکاری ہسپتال ہی منتقل کیا جا سکتا ہے، ہر شخص یا سیاسی شخصیت کے لیے الگ الگ طریقہ کار یا استثنیٰ تخلیق نہیں کیا جا سکتا‘۔
بتایا جارہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے معاملے کی حساسیت اور آئینی باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کو قانون اور جیل مینوئل کی باضابطہ تشریح کا معاملہ قرار دیا، بنچ نے اڈیالہ جیل کے تینوں قیدیوں کی مساوی سہولیات سے متعلق درخواستیں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیں، عدالت نے تمام نامزد فریقین کو کل تک تحریری جواب داخل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، اٹارنی جنرل کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کل بروز منگل ذاتی حیثیت یا معاونت کے ذریعے آئینی نقطہ نظر پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
