لاہور میں زہریلا کھانا کھانے سے بہن بھائی جاں بحق، والدین زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا


لاہور (قدرت روزنامہ) پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے دو معصوم بچے جاں بحق ہوگئے، ان کے والدین کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے مختلف زاویوں سے قانونی اور تفتیشی کارروائی کا آغاز کردیا۔
پولیس اور ریسکیو حکام کی ابتدائی تفصیلات کے مطابق افسوسناک حادثہ ہربنس پورہ کے ایک رہائشی مکان میں پیش آیا، جہاں متاثرہ خاندان نے پہلے سے بچا ہوا سالن آلو گوبھی کھایا، سالن کھانے کے کچھ ہی دیر بعد میاں بیوی اور ان کے دونوں بچوں کی طبیعت اچانک بگڑگئی اور انہیں شدید قے اور غشی کے دورے پڑنے لگے، حالت غیر ہونے پر علاقہ مکینوں نے فوراً ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جس پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر تمام متاثرین کو تشویشناک حالت میں فوری طبی امداد کے لیے نزدیک واقع ہسپتال منتقل کردیا۔
بتایا گیا ہے کہ ہسپتال میں دورانِ علاج طبی عملے کی تمام تر کوششوں کے باوجود دونوں معصوم بچے زندگی کی بازی ہار گئے، جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت قدیر اور عاصمہ کے نام سے ہوئی ہے، بچوں کے والد اور والدہ کی حالت تاحال انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے اور انہیں آئی سی یو میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری، کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
معلوم ہوا ہے کہ فرانزک ماہرین نے باورچی خانے اور برتنوں سے کھانے کے نمونے، آلو گوبھی کے سالن کے بقایا جات اور دیگر اہم شواہد قبضہ میں لے کر لیبارٹری تجزیے کے لیے بھیج دیئے، صورتحال کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کو بھی فوری طور پر طلب کر لیا گیا تاکہ زہریلی اشیاء کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے، فرانزک ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تحقیقاتی نقطہ نظر کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پکے ہوئے سالن میں رات کے وقت ممکنہ طور پر کوئی زہریلا حشرہ یا چھپکلی گر گئی تھی، جس کے باعث کھانا شدید زہریلا ہو گیا، واقعے کی اصل اور حتمی وجوہات فرانزک رپورٹ اور کیمیکل ایگزامینیشن کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی

WhatsApp
Get Alert