پیٹرول سبسڈی اسکیم سے متعلق حکومت کی نئی ہدایات آگئیں


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پیٹرول سبسڈی اسکیم سے متعلق حکومت کی نئی ہدایات آگئیں، وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکل والوں کو ہفتہ وار 5 لیٹر جبکہ گاڑی مالکان کو10 دن بعد 10 لیٹر کا سبسڈی ٹوکن ملےگا۔ وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ اور علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے طریقہ کار اور خصوصیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ موٹرسائیکل والوں کو ہفتہ وار 5 لیٹر جبکہ گاڑی مالکان کو10 دن بعد 10 لیٹر کا سبسڈی ٹوکن ملےگا، پرانی گاڑی اور موٹرسائیکل بھی سبسڈی کیلئے اہل ہوگی، رجسٹریشن اپنے نام ہونا بھی ضروری نہیں، موٹرسائیکل سوار ہفتے میں ایک بار اور گاڑی مالک 10 دن میں ایک بار پیٹرول سبسڈی حاصل کر سکیں گے۔
گاڑی کے لیے 10 لیٹر اور بائیک کے لیے 5 لیٹر کا ٹوکن ہوگا۔
پیٹرول سبسڈی کیلئے 15 سال پرانی موٹرسائیکلیں اور 20 سال پرانی گاڑیاں بھی اس پروگرام کے لیے اہل ہوں گی۔ دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اسکیم پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد سے قبل ملک بھر کے پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ کی حکمتِ عملی کے انتظامی نقائص کی نشاندہی کی گئی، ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے ہزاروں پیٹرول پمپس پر روزانہ لاکھوں موٹر سائیکلوں کا رش رہتا ہے، ایسی صورتحال میں ہر موٹر سائیکل سوار کی شناختی دستاویزات، رجسٹریشن یا انوائس کی جانچ پڑتال کرنا پمپ عملے کے لیے عملی طور پر انتہائی دشوار اور ناممکن عمل ہے۔
ڈیلرز نے کہا ہے کہ بغیر کسی واضح اور خودکار ڈیجیٹل طریقہ کار کے پمپس پر انوائسز چیک کرنے کے عمل سے عوام اور پمپ عملے کے درمیان تلخ کلامی، لائنوں کی طوالت اور شدید بدمزگی کا اندیشہ پیدا ہو جائے گا، صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پی پی ڈی اے نے آج شام ملک بھر کے پیٹرولیم ڈیلرز کا ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، اجلاس میں فیول ریلیف اسکیم کے تکنیکی پہلوؤں، انتظامی طریقہ کار اور ممکنہ درپیش چیلنجز پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert