وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنے کارکنان کو چھڑوانے کیلئے خود پولیس کے ڈالے میں بیٹھ گئے


لاہور (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنے کارکنان کو چھڑوانے کیلئے خود پولیس کے ڈالے میں بیٹھ گئے، سہیل آفریدی نے پولیس کو کہا کہ جب تک میرے کارکنان کو نہیں چھوڑیں گے تب تک گاڑی سے نہیں اتروں گا۔ اس حوالے سے اردوپوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء شوکت بسرا نے بتایا کہ پولیس نے لاہور کی قیادت کو حراست میں لے رکھا ہے، ہمارے سینکڑوں کو لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، ہم لبرٹی کی طرف جا رہے تھے کہ پولیس نے ناکے لگا کر ہمارے لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے،
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ جب تک ہماری قیادت اور کارکنان کو رہا نہیں کیا جائے گا ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے لاہور میں تحریک انصاف کے دیرینہ شہید کارکن اشتیاق احمد کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور پنجاب پولیس کی کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے اشتیاق احمد کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی، اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
انہوں نے اہلخانہ کو ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایک اشتیاق احمد کو گرم تیل کی کڑاہی میں پھینکنا انتہائی افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول اقدام ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر قائدین بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ بعد ازاں، وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے 27 ستمبر لانگ مارچ کے حوالے سے لاہور میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت کی، مختلف مقامات پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور عمران خان کے حامیوں نے ان کا پٴْرجوش نعروں اور والہانہ جذبے کے ساتھ بھرپور استقبال کیا۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لاہور میں دو موریا پل کے مقام پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جن لوگوں نے میلاد کی تیاری کرنے والے ہمارے کارکن اشتیاق احمد کو شہید کیا، مجھے ان سے سکیورٹی نہیں چاہیے۔ پنجاب پولیس تھانوں میں واپس جائے، پنجاب کے لوگ تم سے اور تمہاری وردی سے نفرت کرتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert