سعودی جنگی طیاروں نے 24 گھنٹوں میں یمن میں 52 فضائی حملے کئے
حملوں میں تعز، الجوف، البیضا، جبکہ شمالی صوبوں صعدہ اور عمران کو نشانہ بنایا گیا، حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کا دعویٰ

صنعاء(قدرت روزنامہ)یمن کے حوثی گروپ نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے پانچ صوبوں میں 52 فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان سرحد پار کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایف-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں نے یہ حملے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر خمیس مشیط اور مغربی شہر طائف کے فضائی اڈوں سے اڑان بھرنے کے بعد کیے۔
یحییٰ سریع کے مطابق حملوں کا نشانہ جنوب مغربی صوبے تعز، شمالی صوبے الجوف، وسطی صوبے البیضا، جبکہ شمالی صوبوں صعدہ اور عمران کے علاقے بنے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسکولوں، پلوں، سڑکوں اور دیگر شہری انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حوثی ترجمان نے کہا کہ ان حملوں کا “جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا”، جس سے سعودی عرب کے خلاف مزید حوثی کارروائی کا عندیہ ملتا ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیرہ ٹی وی نے منگل کو رپورٹ کیا کہ تعز صوبے کے ذباب اور مقبنہ اضلاع میں ہونے والے فضائی حملوں میں 3 شہری، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں، ہلاک جبکہ 2 دیگر زخمی ہوئے۔ ٹی وی چینل نے مزید بتایا کہ منگل کو تعز صوبے کے جنوب مشرقی علاقے خضیر میں ایک سرکاری کمپلیکس پر بھی حملے کیے گئے، جن میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ حملے پیر کو خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کیے گئے، جن کے بارے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ ان میں 13 شہری زخمی ہوئے۔ اتحاد نے “ذمہ دارانہ اور سخت” ردعمل دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ سرحد پار کشیدگی میں یہ اضافہ حوثیوں کی جانب سے 3 ستمبر کو شروع کی گئی کارروائی کے دوران ہوا ہے، جس کے نتیجے میں یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں محاذوں کی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔
حوثیوں نے 10 ستمبر کو اہم بندرگاہی شہر موخا پر قبضہ کرنے کے بعد باب المندب کے علاقے کی جانب پیش قدمی کی اور 11 ستمبر کو آبنائے باب المندب کے مرکز میں واقع میون جزیرے پر بھی قبضہ کر لیا۔ یمن میں تنازع 2014 کے اواخر میں اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے صنعاء اور شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سعودی قیادت میں اتحاد نے مارچ 2015 میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں یمن میں فوجی مداخلت کی۔
