عمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کرنے کے پیچھے نواز شریف اور مریم نواز ہیں، جنید اکبر

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخواہ کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے عدالتی نظام، حکومت اور سیاسی انتقام پر شدید تنقید کرتے ہوئے عمران خان کی ہسپتال منتقلی میں رکاوٹ کا ملبہ نواز شریف اور مریم نواز پر ڈال دیا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر خان نے کہا کہ کس قانون کے تحت نواز شریف کو جیل سے برطانیہ جانے کی اجازت دی گئی اور ایئرپورٹ پر ہی ضمانت منظور کی گئی؟ اور اب موجودہ دور میں جسٹس امین الدین کی عدالت جس طرح بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کیس اپنے پاس لے کر آئی ہے، تو اس کے بعد ب میرے خیال میں سپریم کورٹ کوئی پنساری کی دکان کھول لے، چترال سے ایم این اے عبداللطیف کے کیس میں دیگر تمام افراد بری ہو چکے ہیں مگر ان کا کیس ڈیڑھ سال سے سماعت کے لیے نہیں لگ رہا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کے کیسز کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
حاجی امین الدین صاحب کی عدالت عمران خان کا کیس اپنے پاس لے کر آئیں ہیں تو اب میرے خیال میں سپریم کورٹ کوئی پنساری کی دکان کھولے۔ جنید اکبر خان @MalickViews @JunaidAkbarMNA #PTI #ImranKhan #SupremeCourt pic.twitter.com/DHjEYp3E7X
— Ali Hassan (@AliJrnlst) September 15, 2026
انہوں نے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی بحث کو نیتوں کا فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مقصد بااختیار یونٹس بنانا نہیں بلکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی وسائل پر وفاق کا قبضہ مضبوط کرنا ہے، محسن نقوی کہتے ہیں چھوٹے یونٹس کے بغیر نظام نہیں چلتا لیکن دوسری طرف اختیارات کی یہ صورتحال ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ سب کچھ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا رقبہ اور آبادی بہت محدود ہے مگر کیا وہاں ایک ہسپتال اور سکولوں کے مسائل حل ہو گئے؟ اصل مسئلہ انتظامی یونٹس کا نہیں بلکہ گورننس، انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے اور عوام کی توجہ کشمیر جیسے اہم موضوع سے ہٹانے کے لیے یہ بحث شروع کی گئی ہے، بندوق کے زور پر ڈائیلاگ نہیں ہوتے، ایک طرف بات چیت کی جاتی ہے اور دوسری طرف وارنٹ جاری کر دیئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص 20 ایف آئی آرز سے نہیں ڈرا، وہ 40 ایف آئی آرز سے بھی نہیں ڈرے گا مگر پنجاب میں پی ٹی آئی کا جھنڈا اٹھانا جرم بنا دیا گیا ہے، ہمیں نہ جلسے کی اجازت ہے، نہ اسمبلی فلور پر بات کرنے دی جاتی ہے اور نہ ہماری تاریخیں لگتی ہیں، گزشتہ ایک سال کے دوران اسمبلی فلور پر کی گئی ان کی تقاریر میں اگر 20 فیصد بھی آئین کے خلاف بات ملے تو انہیں چور والی سزا دی جائے۔
جنید اکبر نے کہا کہ بیمار تو نواز شریف تھے جنہیں ایک بیماری کے علاوہ دنیا کی تمام بیماریاں لاحق تھیں اور شہباز شریف کی کمر کا درد وزیراعظم بنتے ہی ختم ہوگیا، وہ گزشتہ تین سال سے روزانہ سوئمنگ کر رہے ہیں، علاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے، ہمیں بتایا گیا ہے کہ ن لیگ میں شامل ہارڈ لائنر عناصر یعنی نواز شریف اور مریم نواز نہیں چاہتے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے، پہلے یہ سب اسٹیبلشمنٹ کرتی تھی لیکن اس بار حکومتِ وقت رکاوٹ ہے، اگر اب عمران خان کی کال آئی تو ہم کارکنوں کو روکنا بھی چاہیں تو وہ رکنے والے نہیں ہیں۔
