اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج پر حکم، سرکاری ملازمین کو مارچ میں شرکت پر مجبور کرنے سے روک دیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق رٹ پٹیشن پر جاری فیصلے میں صوبائی حکومتوں، چیف سیکریٹریز، پولیس سربراہان اور اسلام آباد انتظامیہ کو سرکاری ملازمین کو اسلام آباد کی جانب مارچ، ریلی یا جلوس میں شرکت پر مجبور، اکسانے یا آمادہ کرنے سے روکنے سمیت متعدد ہدایات جاری کردی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ صوبائی حکومتیں، بشمول صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، اس امر کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو اسلام آباد کی جانب جانے والے کسی مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت کے لیے مجبور، دباؤ کا شکار، آمادہ یا کسی بھی طریقے سے پابند نہ کیا جائے۔
اسلام آباد میں شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کی ہدایت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد کی انتظامیہ، بشمول وزارت داخلہ، کو ہدایت کی کہ اسلام آباد میں مقیم کوئی شخص ایسی سرگرمی نہ کرے جس کے نتیجے میں دیگر شہریوں یا افراد کو آئین کے آرٹیکلز 9، 15، 18، 23، 24 اور 25A کے تحت حاصل حقوق متاثر ہوں۔
عدالت نے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹرز جنرل پولیس صوبوں، وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو فوری طور پر متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ان اہلکاروں کو ہدایات جاری کرنے کا حکم دیا جو اسلام آباد یا صوبوں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
مارچ یا ریلی کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کی ہدایت
عدالت نے واضح کیا کہ کوئی سرکاری اہلکار ایسے کسی حکم پر عمل نہیں کرے گا جس کے ذریعے اسے اسلام آباد کی جانب جانے والے کسی مارچ، ریلی یا جلوس کی معاونت یا سہولت کاری پر مجبور کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق اگر کسی سرکاری اہلکار کو ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ فوری طور پر متعلقہ چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا متعلقہ صوبے یا اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو اس بارے میں آگاہ کرے گا۔
شہریوں کی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ سے روکنے کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ کوئی سرکاری اہلکار کسی شخص کو ایسے مارچ، ریلی یا جلوس میں شرکت کی اجازت نہ دے جس کا مقصد یا نتیجہ اسلام آباد میں آزادانہ نقل و حرکت، تجارت، کاروبار، تعلیمی اداروں اور طبی سہولیات تک رسائی یا املاک کے پُرامن اور قانونی استعمال میں رکاوٹ ڈالنا یا انہیں متاثر کرنا ہو۔
سرکاری ملازمین کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت
عدالت نے صوبائی چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹرز جنرل پولیس کو فوری طور پر ہیلپ لائن یا براہِ راست رابطے کا ایسا نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی کی جس کے ذریعے سرکاری ملازمین کسی بھی شخص، بشمول سیاسی رہنما یا سرکاری عہدیدار، کی جانب سے دباؤ یا ترغیب کی صورت میں براہ راست متعلقہ حکام کو آگاہ کرسکیں۔
حکم کی خلاف ورزی پر محکمانہ کارروائی کا حکم
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹرز جنرل پولیس ایسے کسی بھی سرکاری اہلکار کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کریں جو عدالتی حکم یا ان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات و احکامات کی خلاف ورزی کرے۔
عدالت نے مذکورہ تمام ہدایات پر عملدرآمد سے متعلق متعلقہ حکام کو رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

WhatsApp
Get Alert