قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے پر فوری مقدمہ درج کیا جائے، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے پر فوری مقدمہ اندراج کا اہم فیصلہ جاری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے 2012 میں سندھ کے علاقے دادو میں ہونے والے قتل کیس کے مجرم علی رضا کی نظر ثانی اپیل مسترد کرتے ہوئے 7 صفحات پر مشتمل اہم فیصلہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کی اور ٹرائل و ہائیکورٹ کی جانب سے سزا کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ 7 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا گیا کہ مجرم علی رضا پر 2012 میں دادو میں ایک قتل کا الزام تھا، قتل کیس کا معلوم ہونے کے باوجود پولیس نے تین کی تاخیر سے مقدمہ درج کیا تھا۔

تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو عمر قید ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف علی رضا نے ہائیکورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کی تاہم کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا تھا ۔

سپریم کورٹ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ اندراج مقدمہ کی تاخیر میں ملوث اہلکاروں کی خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے۔

تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ مقدمہ اندراج میں تاخیر پر ٹرائل کورٹ نوٹس لے کر اس قانونی کاروائی کرسکتی ہے جبکہ مقدمہ درج ہونے میں تاخیر ثابت ہونے پر معاملہ محکمانہ کارروائی کیلئے آئی جی کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اندراج مقدمہ میں تاخیر کو صرف بے قاعدگی کے طور نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو یکم جنوری 2025 سے آج تک کے قتل مقدمات کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں 24 گھنٹوں سے زائد کی تاخیر میں مقدمہ درج ہوا ہو۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ دو ماہ کے اندر ضلع کے حساب سے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور واضح کیا کہ آج کے بعد محمد بخش کیس احکامات پر عمل نہ کرنے اعلی افسران کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ہوگی۔

تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی ،ایس پی انویسٹیگیشن اور ڈی پی او کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے محمد بخش کیس کا سندھی زبان میں ترجمہ کرکے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

WhatsApp
Get Alert