کوہاٹ پولیس لائن مسجد میں ہولناک دہشت گرد حملہ سنگین ترین عمل ہے، پشتونخوا کو جنگ کا میدان بنانے کی پالیسیاں نامنظور: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

خیبر پختونخوا حکومت کی توجہ عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی محاذ آرائی پر ہے، عارضی آپریشنز اور طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں


زیارت، ہنہ اوڑک، پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ سمیت پورا خطہ سنگین سکیورٹی بحران کا شکار ہے، وفاقی و صوبائی حکومتیں نمائشی اقدامات کے بجائے عملی امن کی ضمانت دیں
کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کوہاٹ پولیس لائن کے قریب مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں 16 افراد، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا ہے کہ عبادت کے دوران نمازیوں کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین دہشت گردی ہے، لیکن کوہاٹ کا یہ سانحہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے خیبر پشتونخوا اور جنوبی پشتونخوا کے عوام مسلسل دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بم دھماکوں، مسلح حملوں اور خوف و ہراس کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ حکمرانوں کی طرف سے مستقل اور مؤثر سیاسی و انتظامی حکمتِ عملی نظر نہیں آ رہی۔
پارٹی نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا خصوصاً زیارت، ہنہ اوڑک، پشین، سرانان، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ اور دیگر علاقوں میں رونما ہونے والے مسلسل واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ بدامنی اب کسی ایک ضلع یا علاقے کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ پورا خطہ ایک سنگین سکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔ زیارت کے منگی کے علاقے میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور اہلکاروں کے اغوا کا واقعہ ہو یا پشین کے زیارت کراس پر کسٹمز تنصیب کو نشانہ بنانے کا حملہ، سرانان کے اطراف مسلح عناصر کے خلاف کارروائیاں ہوں یا قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی واقعات، ان تمام واقعات نے عوام کے اندر شدید عدم تحفظ پیدا کیا ہے۔پارٹی نے کہا کہ ہنہ اوڑک کا المناک واقعہ بھی ابھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا، جہاں شہریوں کے قتل، زخمی ہونے اور لوگوں کے اغوا جیسے واقعات نے پورے علاقے کو خوف میں مبتلا کیا۔ ایسے واقعات کے بعد بھی اگر حکمران صرف رسمی مذمتی بیانات تک محدود رہیں اور بنیادی وجوہات کا سیاسی، انتظامی اور آئینی سطح پر جائزہ نہ لیں تو بدامنی کے خاتمے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف طاقت کے استعمال، عارضی آپریشنز اور سکیورٹی ناکہ بندیوں کو مستقل پالیسی سمجھنا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ حکمرانوں کو اپنی ان پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا ہوگی جن کے نتیجے میں پشتونخوا کے عوام کئی دہائیوں سے جنگ، دہشت گردی، فوجی کارروائیوں، نقل مکانی، معاشی تباہی اور مسلسل خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے، لیکن بدقسمتی سے آج بھی پشتونخوا کے عوام اپنے گھروں، بازاروں، شاہراہوں، مساجد، سرکاری تنصیبات اور حتیٰ کہ جنازوں تک میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ خیبر پشتونخوا کی حکومت کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں، پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں مسلسل حملوں کے باوجود اگر حکومت کی توجہ عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سرگرمیوں پر مرکوز رہے تو اس سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔ پارٹی نے وفاقی حکومت کو بھی خبردار کیا کہ پشتونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا میدان بنا کر یہاں کے عوام کو مسلسل لاشیں اٹھانے پر مجبور کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
پارٹی نے کہا کہ اگر حکومتیں دہشت گردی کے خاتمہ میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنی ماضی اور موجودہ پالیسیوں کا شفاف جائزہ لینا ہوگا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ہوگا اور ایسی جامع پالیسی تشکیل دینا ہوگی جو دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی اسباب کا بھی سدباب کرے۔ جنوبی پشتونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پولیس، لیویز، سکیورٹی اہلکار، سیاسی کارکن، طلبہ، علماء، تاجر، مزدور اور عام شہری سب اس بدامنی سے متاثر ہوئے ہیں۔ عوام مزید تجربات، وعدوں اور نمائشی اقدامات کے بجائے عملی امن، آئینی حکمرانی، قانون کی بالادستی اور اپنے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت چاہتے ہیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ کوہاٹ پولیس لائن حملے سمیت حالیہ تمام دہشت گردی کے واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، شہداء کے خاندانوں اور زخمیوں کی فوری مالی و طبی مدد کی جائے اور جنوبی پشتونخوا کے متاثرہ علاقوں میں عوامی نمائندوں، سیاسی جماعتوں اور مقامی عمائدین کو اعتماد میں لے کر مؤثر امن پالیسی تشکیل دی جائے۔
پارٹی نے کہا کہ پشتونخوا کے عوام کو مزید لاشوں، اغوا، دھماکوں اور خوف کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ امن کسی سیاسی جماعت یا حکومت کا احسان نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں، عوام کو تحفظ دیں اور ایسی پالیسیوں کا خاتمہ کریں جنہوں نے پشتونخوا کو مسلسل بدامنی اور دہشت گردی کا میدان بنا رکھا ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کوہاٹ سانحے کے شہداء کے لواحقین، زخمیوں اور تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر، شفاف، مستقل اور عوام دوست پالیسی کے بغیر پشتونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔

WhatsApp
Get Alert