انیق ناجی نے کینیڈین سفارتکار سے نواز شریف سے متعلق مکالمے کا احوال شیئر کردیا
کینیڈین ایمبیسی میں ایک خاتون ڈپلومیٹ آئیں، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا مجھے نواز شریف کے بارے میں جاننا ہے کوئی کتاب تجویز کریں، میں نے کہا وہ تو کبھی کتاب کے قریب سے نہیں گزرے؛ تجزیہ کار کی گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار انیق ناجی نے مسلم لیگ ن کی قیادت، شریف خاندان کے طرزِ حکمرانی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سیاسی و انتظامی صلاحیتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ شریف خاندان میں علم، کتاب اور شعور کو ہمیشہ حقارت سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے اپنے ویلاگ میں گفتگو کرتے ہوئے انیق ناجی نے کینیڈین ایمبیسی کی ایک خاتون سفارتکار سے اپنی ملاقات کا احوال سناتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے نواز شریف کے بارے میں جاننے کے لیے کسی کتاب کی تجویز مانگی، جس پر میں نے جواب دیا کہ نواز شریف تو کبھی کتاب کے قریب سے بھی نہیں گزرے، نہ انہوں نے خود کوئی کتاب لکھی اور نہ ان پر کسی نے لکھی ہے کیونکہ پوری شریف فیملی میں کتاب اور شعور کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے کینیڈین ایمبیسی میں ایک خاتون ڈپلومیٹ آئیں تو ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے نواز شریف کے بارے میں جاننا ہے اس لیے مجھے کوئی کتاب تجویز کریں میں نے کہا وہ تو کبھی کتاب کے نیڑے سے نہیں گزرے نہ انہوں نے خود کوئی لکھی نہ ان پر کسی نے لکھی دوسری طرف… pic.twitter.com/IhSASZI7E1
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 18, 2026
انہوں نے حکومت کے میڈیا اور سیاسی مشیروں کے گرد گھیراؤ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ہمیشہ خوشامدی ٹاؤٹس میں گھیرے رہتے ہیں، جو انہیں 24 گھنٹے یہی بتاتے ہیں کہ آپ سے بڑا کوئی رہنما نہیں اور آپ مہان ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز میڈم جب بھی منہ کھولتی ہیں، اپنے ہی خلاف بولتی ہیں اور ان کی بیانات سے اپنا ہی نقصان ہوتا ہے، پنجاب میں جیسے ہی سیاسی یا انتظامی طور پر تھوڑی سی گرم ہوا چلی تو حکومت کی ہوائیاں اڑ گئیں، ہاتھ پیر کانپنے لگے، پیپرز تک نہیں مل رہے تھے اور پوری حکومت بالکل بوکھلائی ہوئی نظر آئی۔
سیاسی تجزیہ کار نے ملک میں بڑھتی ہوئی عوامی بے زاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حکمرانوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ عوام کے دلوں میں ان سے کتنی شدید نفرت پیدا ہو چکی ہے، جن لوگوں کے ہاتھ میں اصل اختیارات ہیں، ان کو اب ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ اس قوم کا مزید کتنا امتحان لینا ہے؟۔ انیق ناجی مزید کہتے ہیں کہ جب ذاتی نوکروں اور ملازمین کو بڑے بڑے عہدے دیے جاتے ہیں تو کابینہ میں موجود اچھے، پڑھے لکھے اور خاندانی لوگوں کو یہ واضح پیغام دیا جا رہا ہوتا ہے کہ تم لوگوں کی حیثیت ان ملازمین سے زیادہ نہیں ہے اور جب ایک ذاتی نوکر کے پاس منتخب وزراء سے زیادہ پروٹوکول ہو تو کوئی بھی عزتِ نفس رکھنے والا انسان اس ماحول میں کیسے کام کر سکتا ہے؟ ان تمام غلط اقدامات کا انجام وہی ہوگا جو جلد ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
