عوام میں بھوک اور غصے کی لہر، حکومت کو فوری معاشی ریلیف کی فراہمی کا مشورہ
حکومت دنیا کے بڑے بڑے مسئلے حل کروانے میں تو لگی ہوئی ہے لیکن ان سے اپنے گھر کے دو بڑے مسئلے حل نہیں ہو رہے، ایک مہنگائی اور دوسرا عمران خان ہے؛ تجزیہ کار محمد حنیف کا ویلاگ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف تجزیہ کار محمد حنیف کا کہنا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ حکومت دنیا کے بڑے بڑے مسئلے حل کروانے میں تو لگی ہوئی ہے لیکن ان سے اپنے گھر کے دو بڑے مسئلے حل نہیں ہو رہے، جن میں ایک مہنگائی اور دوسرا عمران خان شامل ہے، ریاستی پابندیوں کے باعث گزشتہ تین سال سے عمران خان کی جیل سے کوئی تصویر بھی منظرِ عام پر نہیں آنے دی گئی اور ماضی میں عدالتی احکامات کے باوجود پرائیویٹ ہسپتال انتقال کے بجائے سرکاری ہسپتال کے مختصر دورے کے بعد انہیں فوری واپس جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
بی بی سی پنجابی کیلئے اپنے ویلاگ میں انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے 7 سابق کرکٹ کپتانوں نے عمران خان کے ساتھ انسانی بنیادوں پر منصفانہ سلوک کرنے، ان کا مناسب طبی معائنہ کرانے اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کی پرزور اپیل کی ہے، عالمی سطح پر کرکٹ شخصیات کی جانب سے اس سے قبل بھی درجنوں کپتان اور نامور کھلاڑی عمران خان کے حقوق اور رہائی کی حمایت میں آواز اٹھا چکے ہیں، ان کے صاحبزادے بھی اپنے والد کی سکیورٹی اور صحت سے متعلق عالمی برادری کے سامنے شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ਪਾਕਿਸਤਾਨ ਵਿੱਚ ਮਹਿੰਗਾਈ ਦੀ ਸਮੱਸਿਆ ਅਤੇ ਇਮਰਾਨ ਖ਼ਾਨ ਦੀ ਰਿਹਾਈ ਦੀ ਮੰਗ ਬਾਰੇ ਸੀਨੀਅਰ ਪੱਤਰਕਾਰ ਅਤੇ ਲੇਖਕ ਮੁਹੰਮਦ ਹਨੀਫ਼ ਦਾ ਨਜ਼ਰੀਆ
ਇਹ ਲੇਖਕ ਦੇ ਨਿੱਜੀ ਵਿਚਾਰ ਹਨ।#pakistan #imrankhan #MohammedHanif pic.twitter.com/93itgSR35o— BBC News Punjabi (@bbcnewspunjabi) September 18, 2026
محمد حنیف کا کہنا ہے کہ جیل جانے سے قبل عمران خان کو اپنے کارکنوں کی طاقت پر بے پناہ بھروسہ تھا اور توقع تھی کہ لاکھوں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ پارٹی کے کئی اہم رہنما اور مشیر ابتداء میں ہی معافیاں مانگ کر الگ تھلگ ہو گئے، جن عام کارکنوں نے واقعی سڑکوں پر آ کر جدوجہد کی، انہیں سخت تشدد، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اب پارٹی صفوں میں اندرونی اختلافات اور مایوسی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے، جس پر حکومت نے پہلے سے ہی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے احتجاج کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر دیا ہے، تحریک انصاف کے رہنماء جہاں بھی مارچ کی تیاریوں کے لیے متحرک ہوتے ہیں، وہاں پولیس کی ناکہ بندی اور کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے بھی حکومت کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
تجزیہ کار کا مؤقف ہے کہ حکومت عالمی امور میں خود کو کتنا ہی متحرک پیش کرے لیکن وہ اپنے ملک کے دو اہم ترین اندرونی مسائل حل کرنے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتی ہے، ایک مہنگائی کا معاشی بحران اور دوسرا عمران خان کی عوامی مقبولیت۔ ہے، اس وقت عوام میں بھوک اور سیاسی غصے کا ایک لاوا پک رہا ہے کیونکہ شہری ایک طرف اپنے محبوب رہنما کی قید اور دوسری طرف روٹی اور روزگار کی بڑھتی ہوئی مشکلات سے نبردآزما ہیں، اگر حکومت سیاسی قیدیوں کے معاملے پر لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں تو اسے کم از کم عوام کی شدید معاشی بدحالی اور بھوک کا فوری تدارک کرنا ہوگا ورنہ عوامی غصہ قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔
