پی ٹی آئی اگر لانگ مارچ کرکے اسلام آباد آئی تو وفاقی حکومت کیسے نمٹے گی؟ منیب فاروق کا سوال
جب ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ کی بات آئے گی تو ان کا مکو ٹھپنا پڑا تو ضرور ٹھپیں گے، وزیراطلاعات عطاء تارڑ کا جواب

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراطلاعات عطاء تارڑ کا کہنا ہے کہ جب ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ کی بات آئے گی تو ان کا مکو ٹھپنا پڑا تو ضرور ٹھپیں گے۔ ٹی وی پروگرام میں وزیراطلاعات سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی اگر لانگ مارچ کرکے اسلام آباد آئی تو وفاقی حکومت کیسے نمٹے گی؟ سوال کے جواب میں عطا تارڑ نے پروگرام ہیڈ آن میں جواب میں کہا کہ جب ریاست کی رٹ کی بات آئے گی، شہریوں کے تحفظ کی بات آئے گی تو انکا مکو ٹھپنا پڑا توٹھپیں گے، ہم نے حلف لیا ہے کہ اپنے شہروں اور شہریوں کومحفوظ رکھنا ہے اور اسکے لیے جو بھی کچھ کرنا پڑے ہم پورے انتظامات کریں گے۔
لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کی باری آئے۔ کیا ہم ان کو فری ہینڈ دے دیں کہ آؤ شاہراہیں کھلی ہیں،پچھلی بار جب سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آپ نے نہیں آنا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آرڈر دیکھا نہیں ، ہمیں پتا نہیں چلا۔ یہاں آکر میٹرواور درختوں کو آگ لگا دی۔
پی ٹی آئی اگر لانگ مارچ کرکے اسلام آباد آئی تو وفاقی حکومت کیسے نمٹے گی؟
وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا پروگرام ہیڈ آن میں جواب
جب ریاست کی رٹ کی بات آئے گی، شہریوں کے تحفظ کی بات آئے گی تو انکا مکو ٹھپنا پڑا توٹھپیں گے، ہم نے حلف لیا ہے کہ اپنے شہروں اور شہریوں کومحفوظ… https://t.co/kkv6LbqpYn pic.twitter.com/Jnyy3kjGCu— Muneeb Farooq (@muneebfaruqpak) September 24, 2026
میں یہاں وزیرداخلہ کی طرف سے بھی کہہ رہا ہوں کہ وہ بھی مکو ٹھپنے والی میری بات کی تائید کریں گے۔
میرے اس بیان کے پیچھے وزارت داخلہ ہے۔ اسی طرح مرکزی رہنماء ن لیگ اختیار ولی خان نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آپ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے تمام مواد پورے کرتے دکھائی دیتے ہو۔ لیکن یاد رکھو ہم جمہوری لوگ ہیں، اگرچہ گورنر راج اور ایمرجنسی لگانا قانون میں ہے لیکن ہم آخری حد تک صبر کریں گے۔ جب تک صوبے کے لوگ نہیں بولیں گے کہ ہٹاؤ انکو بھگاؤ ۔
ہم گورنر راج نہیں لگائیں گے۔ اختیار ولی نے کہا کہ جب تک تمام سیاسی جماعتیں نہیں بولیں گی کہ یہ لوگ اب آپے سے باہر ہوچکے ہیں یہ پاکستان کے وجود اور نظریاتی اساس پر حملہ آور ہورہے ہیں، جب ساری سیاسی جماعتیں ایمرجنسی کا مطالبہ کریں گی تب ایمرجنسی لگانے کا دیکھیں گے۔ دوسری جانب سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے وی لاگ میں انہوں نے بتایا کہ شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے آرٹیکل232 کی تیاری کی گئی ہے، آرٹیکل 232 ایمرجنسی سے متعلق ہے، ایمرجنسی کے دو پہلو ہیں، اگر کوئی بیرونی جارحیت ہوتی ہے یا اندرونی خلفشار ہوتا ہے، تو صوبے کے اندر ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، جس کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ایسا نہیں ہوتا تو صدر مملکت کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرسکتے ہیں،18ویں ترمیم کے بعد یہ آرٹیکل 232 کہتا ہے ۔
خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی لگنے کے امکانات 70 فیصد سے زیادہ ہیں ایمرجنسی لگانے کے لیے دو شرائط ہیں ایک بیرونی جارحیت اور دوسرا اندرونی خلفشار دونوں شرائط پوری ہیں اندورنی خلفشار والی شرط لانگ مارچ کی صورت میں پوری ہو جائے گی ! عاصمہ شیرازی ۔۔ pic.twitter.com/4hIq65N0Gj
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 24, 2026
ایمرجنسی لگانے کیلئے دو شرائط ہیں، ایک بیرونی جارحیت اور دوسری اندرونی خلفشار، بیرونی جارحیت والی شرط خیبرپختونخواہ میں پوری ہوچکی ہے۔ دوسری شرط اندرونی خلفشار کی ہے وہ ابھی لانگ مارچ، دہشتگرد تنظیموں اور امن وامان کی صورت میں موجود ہے۔
یہ میں آپ کو خبر بتا رہی ہوں، یہ میری کوئی خواہش نہیں ہے، آئین کے اندر یہ ایک سب سے ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔ کہ کن کن صورتوں میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگ سکتا ہے۔ اگر صوبائی اسمبلی ایمرجنسی کی قرارداد منظور نہیں کرتی تو صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی نفاذ کے بعد دس دن کے اندر مجلس شوریٰ الگ الگ ایوانوں سے قرارداد منظور کرسکتی ہے۔ اس بار ڈرایا ، دھمکایا نہیں جائے گا، اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رکتا تو حکومت پاکستان فوری ایمرجنسی کا نفاذ کرسکتی ہے۔
