ڈیموکریسی انڈیکس میں پاکستان کا شمار آمرانہ ریاستوں میں ہونے لگا ہے، حامد میر
پاکستانی میڈیا پر پابندیوں کا نیا ریکارڈ قائم ہو چکا، عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، پارلیمنٹ بے اختیار ہے، پاکستان کو ان پالیسیوں سے کیا ملا؟ گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں پاکستان ٹاپ پر کیوں پہنچا؟ سیئرصحافی کا سوال

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا پر پابندیوں کا نیا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے، عدلیہ اور پارلیمنٹ کی بے توقیری کے باعث عالمی جمہوری انڈیکس میں پاکستان کا شمار اب باقاعدہ ایک آمرانہ ریاست کے طور پر ہونے لگا ہے۔
اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کریڈیبلٹی مجروح ہو رہی ہے، اگر آپ گلوبل ڈیموکریسی انڈیکس کو دیکھیں تو کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کا شمار ہائبرڈ نظام میں ہوتا تھا، اب پاکستان کو آمرانہ نظام حکومت کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے، قانون کی حکمرانی کی عالمی درجہ بندی میں بھی پاکستان 143 ممالک کی فہرست میں 130 ویں نمبر پر نیچے گر چکا ہے، گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں پاکستان ٹاپ پر پہنچ چکا ہے۔
پاکستانی میڈیا پر پابندیوں کا نیا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے پاکستانی عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا پارلیمنٹ بے اختیار ہے ڈیموکریسی انڈیکس میں پاکستان کا شمار آمرانہ ریاستوں میں ہونے لگا ہے لیکن پاکستان کو ان پالیسیوں سے کیا ملا؟ گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں پاکستان ٹاپ پر کیوں… pic.twitter.com/Hg9bCleERq
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) September 29, 2026
حامد میر نے حکمران اشرافیہ اور طاقتور حلقوں کی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے طاقتور لوگوں کا واحد ٹارگٹ یہی رہ گیا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے میڈیا کو کنٹرول کیا جائے اور آزاد آوازوں کو دبایا جائے، ایک ایٹمی طاقت کی حامل ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور حکمران اشرافیہ نے اتنی بے پناہ طاقت کا استعمال میڈیا اور عدلیہ کے خلاف کیا ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اس تمام تر جبر کا پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟۔
اینکر پرسن نے قائداعظم کا تاریخی قول یاد دلاتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر مجھ سے بھی کوئی غلطی ہو جائے یا میں غلط سمت میں جانے لگوں تو آپ ایک سچے دوست کی حیثیت سے مجھ پر بھی کھل کر تنقید کر سکتے ہیں‘، حامد میر کا کہنا تھا کہ آزاد صحافت اور عدلیہ پر سنسرشپ سے ملک کو دنیا بھر میں شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا اور ان پالیسیوں نے پاکستان کے جمہوری اور معاشی مستقبل کو شدید خطرات میں ڈال دیا۔
