جیسے ترکی کا ڈراما تھا عشق ممنوع، ویسے ہی پی ٹی آئی کے سیاسی ڈرامے کا نام ہے عقل ممنوع ، روف کلاسرا
جو سیاسی سمجھ بوجھ رکھ کر بات کرتا ہے اسے ٹاوٹ اور غدار کہتے ہیں، جو جتنا ماچو بنتا ہے وہ سوشل میڈیا کو پسند، محب وطن اور پارٹی کا وفادار ہے، پی ٹی آئی میں منتخب لوگوں کی غیرمنتخب سے جنگ ہے۔ سینئر صحافی تجزیہ کار

لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی تجزیہ کار روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورتحال ٹھیک کرنا وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کا بڑا ٹیسٹ ہے، اگر 6 ماہ میں لوگوں کو تبدیلی نظر نہ آئی تو پی ٹی آئی مزید طاقتور بن جائے گی۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں آج اجلاس ہوا، بریفنگ ہوئی ، اس طرح کی باتیں پچھلے 25سالوں سے سن رہے ہیں، اس میں نئی چیز کوئی نہیں، نئی چیز یہی ہے کہ پی ٹی آئی نے جو اپنی بس مِس کی ہے ، اس پر دوبارہ نہیں بیٹھ سکیں گے،جیسے پنجاب میں نہیں بیٹھنے دیا، جس طرح پنجاب میں پرویز الٰہی کی حکومت ختم کی تھی،سب نے کہا کہ ڈیڑھ سال پڑا ہوا ہے نہ کریں۔
لیکن جب حکومت ختم ہوئی تو پھر ایک ہفتے بعد پرویزالٰہی جیل میں تھے اور عمران خان زمان پارک میں قید میں تھے، اور فیصلہ ہوا کہ اب پی ٹی آئی کو واپس پنجاب نہیں دینا ، قانونی غیرقانونی کسی طرح پنجاب واپس نہیں دینا، اسی طرح کا فارمولا خیبرپختونخواہ میں نافذ کیا جائے گا۔
علی امین گنڈاپور یا کسی کو بھی کے پی حکومت نہیں دیں گے ، وہ نہیں چاہتے کہ دوبارہ وہی لانگ مارچ وغیرہ ہوں ۔
ہاں علی امین کو لولی پاپ ضرور دیں گے تاکہ پارٹی میں تقسیم رکھیں۔ اب وفاقی حکومت اور اداروں کے پاس میدان بھی ہے گھوڑا بھی ہے، گورنر بھی ہے،، اگر یہاں اب چھ ماہ میں لوگوں کو تبدیلی نظر نا آئی تو پی ٹی آئی اور طاقتور ہو کر سامنے آئے گی، یہ وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کا بڑا ٹیسٹ ہے۔
راوف کلاسرا نے کہا کہ جیسے ترکی کا ڈراما تھا عشق ممنوع، ویسے ہی پی ٹی آئی کے سیاسی ڈرامے کا نام ہے عقل ممنوع۔
جو سیاسی سمجھ بوجھ رکھ کر بات کرتا ہے اسے ٹاوٹ، غدار کہتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں۔ ان کی پارٹی کو کوئی باہر کا آدمی ٹاوٹ، جاسوس، غدار نہیں کہتا یہ لوگ خود ایک دوسرے کو کہتے ہیں۔ جو جتنا ماچو ہے وہ سوشل میڈیا کو پسند ہے وہ محب وطن ہے، پارٹی کا وفادار ہے۔۔ جو سیاسی طور پر ٹھیک لوگ ہیں وہ فارغ ہیں۔ اس وقت پی ٹی آئی میں منتخب لوگوں کی غیر منتخب لوگوں سے جنگ ہے۔
پروگرام میں سینئر صحافی عامر الیاس رانا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے جو بات تھی آج کی ایپکس بریفنگ کے بعد پی ٹی آئی کی کے پی حکومت کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے، یہ بات میں بریفنگ کے حساب سے کررہا ہوں، پھر ہمارے ہاں جو سیاستدان ، افغانستان اور طالبان گفتگو کرتے ہیں، وہ ایک میسج آیا تھا ناں؟ کہ جن کو جانا ہے وہ ایران چلے جائیں، اسی طرح اب افغانستان چلے جائیں،پاکستان میں جس نے سیاست کرنی ہے وہ صرف پاکستان کی سیاست کرے۔
آج کی بریفنگ کے بعد پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ حکومت کی واپسی کا کوئی امکان نہیں، عامر الیاس رانا
— Sanaullah Nagra🇵🇰 (@sana1nagra) October 22, 2026
یہ چیزآپ کو آنے والے دنوں میں واضح ہوتی دکھائی دے گی۔ ایپکس کمیٹی اجلاس میں یہ بات بھی طے کی گئی ہے کہ 6 سے 8 مہینوں میں خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورتحال کو ہرحال میں ٹھیک کرنا ہے، اس گورننس کا یہ سسٹم ہر صورت میں ٹھیک ہوگا۔
چیف سیکرٹری نے وفاقی اور صوبائی محکموں کے حوالے سے ایک بریفنگ دی کہ ہم ترقیاتی منصوبے بنائیں گے۔
یہ معمول کی بریفنگ تھی، اس کو میں ریٹنگ نہیں دیتا، بیوروکریسی میں بھی اکھاڑپچھاڑ کی جائے گی جو کہ کرنی پڑے گی۔وہاں صورتحال بڑی خراب ہے صرف 12اضلاع کی صورتحال نہیں، 12اضلاع تو دہشتگردی کے حوالے سے ہیں۔خیبرپختونخواہ کی مجموعی طور پر یہ بات سرایت کرچکی تھی کہ صرف بیانیہ بیچنا ہے، کام نہیں کرنا، ادھر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوگا اور اس طرف سرجیکل آپریشن ہوگا۔
اب ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی ، یہ سب کیا اپنی رائے دیتے ہیں، محمود خان اچکزئی کو 1992 سے ایک ہی تقریردیکھ رہا ہوں، کیونکہ ان کا زور پختونستان ، افغانستان پر ہوتا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کی سیاسی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔
