بجلی صارفین ہوشیار! حکومت نے بلوں کے حوالے سے نئے احکامات جاری کر دیے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی صارفین کو غلط اور من مانے ڈیٹیکشن بل جاری کرنے کے خلاف بڑا فیصلہ کرتے ہوئے فیلڈ عملے اور ایس ڈی اوز کی جانب سے دستی طور پر ڈیٹیکشن بل جاری کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
اسلام آباد میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے بورڈز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے ڈیٹیکشن بلنگ کے نظام میں بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی چوری کی روک تھام حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم کسی بھی صارف پر ناجائز مالی بوجھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکومت نے بجلی کے ڈیٹیکشن بل جاری کرنے کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مرکزی آن لائن پورٹل تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تمام تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ڈیٹیکشن بل جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اویس لغاری کے مطابق آئندہ دستی طور پر ڈیٹیکشن بل جاری کرنا سنگین مس کنڈکٹ تصور ہوگا اور اس عمل میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خراب یا جلے ہوئے بجلی کے میٹرز زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکلز یعنی دو ماہ کے اندر تبدیل کرنا ہوں گے۔ خراب میٹر کی صورت میں اوسط بلنگ بھی صرف دو ماہ تک محدود رہے گی۔ اسی طرح میٹر سست یا تیز چلنے کی صورت میں اضافی رقم کی وصولی بھی گزشتہ دو بلنگ سائیکلز تک محدود کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق غیر قانونی بجلی استعمال کرنے پر عام صارفین کے لیے ڈیٹیکشن بل کا دورانیہ تین ماہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رجسٹرڈ صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ اور غیر رجسٹرڈ صارفین کے لیے 12 ماہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ کنزیومر سروس مینوئل میں ترامیم کی تجاویز آئندہ چند روز میں پیش کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز اور متعلقہ کمیٹیاں ہر ماہ ڈیٹیکشن بلوں کی درستگی کا جائزہ لیں گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بجلی کے بلوں کے نظام کو شفاف بنانا، صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا اور بجلی کے شعبے میں من مانی وصولیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
