عمران خان کی حمایت اور مخالفت کے احکامات ملتے تھے، انکار پر مقدمات کی دھمکیاں دی گئیں، حامد میر

عمران خان پر بات کرنے سے ہمیں پاکستان کا دشمن کہا گیا، پہلے آپ کہتے تھے یہ پاکستان کی آخری امید ہے، جواب ملا ہمیں حکم آتا ہے عمران خان کو سپورٹ کرو، ہم کرتے ہیں، جب حکم آتا ہے مخالفت کرو تو مخالفت کرتے ہیں، میں نے کہا ’صدقے جاوٴں‘ قائداعظم کے پاکستان میں تو ایسا نہیں چلے گا، انکار پرمجھے مقدمات کی دھمکیاں دی گئیں، تجزیہ کار کی فورم میں گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ ماضی میں صحافیوں کو عمران خان کی حمایت اور بعد میں مخالفت کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جبکہ اختلاف کرنے والوں کو مقدمات کی دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں۔ انہوں نے بعض ریٹائرڈ ججوں کے ماضی کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کی باتیں کرنے والوں کو اپنے سابقہ اقدامات کا جواب دینا چاہیے۔
ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ انہیں ماضی میں بلا کر کہا گیا تھا کہ عمران خان پاکستان کی آخری امید ہیں اور ان پر تنقید نہ کی جائے۔ ان کے مطابق، جب انہوں نے بعض قوانین، ٹی وی چینلز پر پابندیوں اور دیگر اقدامات پر اعتراض کیا تو انہیں دھمکی دی گئی کہ انہیں دیکھ لیا جائے گا۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے متعلقہ افراد سے سوال کیا کہ ان کے اتنے مختلف چہرے کیوں ہیں تو جواب دیا گیا کہ وہ ملازم ہیں اور چین آف کمانڈ کے تحت کام کرتے ہیں۔
ان کے بقول، انہیں جب عمران خان کی حمایت کا حکم ملتا تھا تو وہ حمایت کرتے تھے اور مخالفت کا حکم ملنے پر مخالفانہ مؤقف اختیار کرلیتے تھے۔ حامد میر نے کہا کہ انہوں نے ایسے طرز عمل کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں یہ رویہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ اس اختلاف کے بعد مجھے مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا۔
انہوں نے 2019ء کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بعض ریٹائرڈ ججوں پر تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ اس دور میں جنرل فیض کے احکامات پر صحافیوں کے خلاف مقدمات بنائے جاتے اور ٹی وی چینلز پر پابندیوں سے متعلق پیمرا کے احکامات کی توثیق کی جاتی تھی۔ حامد میر نے کہا کہ آج یہی لوگ عدلیہ کی آزادی اور بالادستی کے لیے تقاریر کررہے ہیں، اس لیے ان کے سابقہ کردار کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔


حامد میر نے اپنے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے فیصلے پر تنقید کرنے کے باعث انہیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، جس ٹی وی پروگرام کی بنیاد پر کارروائی شروع ہوئی، اس میں دیگر صحافیوں اور مہمانوں نے بھی تنقید کی تھی، تاہم ابتدائی طور پر صرف انہیں نوٹس دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عدالت میں پیشی کے دوران انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پروگرام میں دوسرے شرکا نے بھی تنقید کی تھی، جس پر عدالت نے دیگر افراد کو بھی نوٹس جاری کیے۔ حامد میر کے مطابق، پروگرام کا ٹرانسکرپٹ طلب کیے جانے کے بعد جج نے انہیں عدالت کا معاون (amicus curiae) بنانے کی بات کی تاکہ توہین عدالت کے مقدمات سے متعلق رہنمائی حاصل کی جاسکے۔
اس واقعے سمیت ماضی کے دیگر معاملات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افراد اپنے ذاتی مفادات کو اصولوں کی جنگ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حامد میر نے موجودہ سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ چند سال پہلے عمران خان کو پاکستان کی آخری امید قرار دیتے تھے، وہی اب ان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے متضاد مؤقف رکھنے والوں پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert