ایم ڈی کیٹ نتائج، سندھ حکومت نے کراچی کے امیدوارں سے متعلق دعوے مسترد کر دیے

کراچی(قدرت روزنامہ) سندھ حکومت نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج سے متعلق تمام اعتراضات اور دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تفصیلی جواب ارسال کر دیا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے پی ایم ڈی سی کو موصول ہونے والے جوابی خط اور مراسلے میں کراچی کے طلباء کی ناقص کارکردگی کے تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے نتائج ہرگز کراچی کے طلباء کی ناقص کارکردگی کی تصدیق نہیں کرتے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس امتحان میں کراچی کے طلباء کی کارکردگی دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں بہتر رہی ہے۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ بھر سے کل 33,336 امیدوار ایم ڈی کیٹ میں شریک ہوئے تھے، جن میں سے 32,390 امیدواروں (یعنی 57.96 فیصد طلباء) نے 90 یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے۔

مراسلے میں ڈویژن وار کارکردگی کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہیں، جن کے مطابق کراچی ڈویژن صوبے بھر میں تمام ڈویژنز سے آگے رہا۔ کراچی کے 9,505 امیدواروں میں سے 66.98 فیصد طلباء نے 90 یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے، جبکہ 57.78 فیصد طلباء نے 99 یا اس سے زائد نمبر لیے۔

اس کے علاوہ دیگر ڈویژنز میں سکھر کے 55.04 فیصد، لاڑکانہ کے 54.50 فیصد، شہید بینظیر آباد کے 53.62 فیصد اور حیدرآباد کے 52.34 فیصد طلباء نے 90 یا زائد نمبر حاصل کیے۔ کراچی کے تمام اضلاع صوبے کے نو بہترین کارکردگی والے اضلاع میں شامل رہے، اور کراچی ڈویژن کے طلباء کے اوسط نمبر 107.67 رہے۔

محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ یہ نتائج سکھر آئی بی اے ٹیسٹنگ سروسز کے مرتب کردہ ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، جو 2024 سے 2026 تک ایم ڈی کیٹ کا انعقاد کرتی رہی ہے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے امیدواروں کے نمبر اور ڈومیسائل کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ کے سرکاری میڈیکل کالجز کی نشستیں ضلعی بنیاد پر مختص ہوتی ہیں اور کراچی کی سیٹس صرف کراچی ڈومیسائل کے طلباء کو دی جاتی ہیں، اس لیے دیگر اضلاع کے طلبا کے زیادہ نمبرز سے کراچی کی نشستوں کی تقسیم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈومیسائل لازماً اس جگہ کی نشاندہی نہیں کرتا جہاں امیدوار نے امتحان کی تیاری کی ہو، کیونکہ کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں میں دیگر اضلاع کے طلباء بھی آ کر ایم ڈی کیٹ کی تیاری کرتے ہیں۔

لہذا صرف ڈومیسائل کی بنیاد پر زائد نمبرز والوں کے نتائج کو مشکوک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سندھ حکومت نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ صوبے بھر کے امیدواروں کی کامیابیوں کو تسلیم کیا جائے اور ایم ڈی کیٹ امتحان کے نتائج کو سیاسی مقاصد کے لیے ہرگز متنازع نہ بنایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert