انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی گونگے اور بہرے بچوں سے کیوں کرائی جاتی ہے؟

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے گونگے اور بہرے بچوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ 25 ہزار اور 40 ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی میں شفافیت کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لیے خصوصی (گونگے اور بہرے) بچوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جبکہ اس پورے عمل کی نگرانی ایک 7 رکنی کمیٹی کرتی ہے۔
قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران اسٹیٹ بینک نے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ عوام کو قرعہ اندازی کے اس شفاف طریقہ کار پر پورا اعتماد حاصل ہے اور اب تک اس حوالے سے کوئی بھی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے خوش نصیب نمبروں کی نمائش اور ان کا اندراج بھی یہی خصوصی بچے کرتے ہیں، جبکہ اس عمل کے تمام مراحل کو انتہائی شفاف رکھنے کے لیے سات رکنی نگرانی کمیٹی ہر وقت موجود ہوتی ہے۔
پرائز بانڈز کا نظام پاکستان میں بچت اور انعامی اسکیموں کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ شہری اپنی رقم ان بانڈز میں لگاتے ہیں اور قرعہ اندازی کے ذریعے انعام جیتنے کی امید رکھتے ہیں۔ ایسے میں قرعہ اندازی کے طریقہ کار کی شفافیت اور نتائج پر اعتماد اس نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
