عمران خان سمیت اسلام آباد کے قیدی نئی ماڈل جیل میں کب منتقل ہوں گے؟ محسن نقوی نے بتا دیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ماڈل جیل مکمل ہو چکی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف آئندہ 2 سے 4 روز میں اس کا افتتاح کریں گے، جس کے بعد قیدیوں کی نئی جیل میں منتقلی شروع کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی عدالتوں سے متعلق تمام قیدیوں کو نئی جیل میں منتقل کیا جائے گا، جس میں اڈیالہ جیل میں قید وہ افراد بھی شامل ہوں گے جن کے مقدمات اسلام آباد کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

محسن نقوی نے بتایا کہ اسلام آباد ماڈل جیل پر کام 2009 میں شروع ہوا تھا، جبکہ 2016 میں اس کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ 2024 میں جب وہ پہلی بار اس منصوبے کا جائزہ لینے پہنچے تو جیل کی تعمیر تقریباً 40 فیصد مکمل تھی، حتیٰ کہ عمارت کا بنیادی ڈھانچہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا اور منصوبہ ختم ہونے کے قریب تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے منصوبے پر کام شروع کیا۔ وہ اس کا کریڈٹ طلال چوہدری اور سی ڈی اے کی ٹیم کو دیتے ہیں، جنہوں نے دن رات محنت کرکے تعمیر مکمل کی۔ ان کے مطابق طلال چوہدری باقاعدگی سے جیل کا دورہ کرتے اور تعمیراتی کاموں کی ایک ایک چیز کا جائزہ لیتے رہے، جبکہ اسلام آباد پولیس نے بھی جیل کی سیکیورٹی کے لیے اپنے اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی۔

وزیر داخلہ کے مطابق اسلام آباد ماڈل جیل کا منصوبہ اب مکمل ہو چکا ہے، جبکہ جیل کا کچن اور اسپتال بھی تیار ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ چند روز میں یہاں پہنچ کر اس کا افتتاح کریں گے، جس کے بعد قیدیوں کی منتقلی کا عمل شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان منصوبوں میں شامل تھا جن کی تعمیر طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نئی جیل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور قیدیوں سے ملاقات کے انتظامات سمیت تمام امور اس انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں کہ یہ جیل ایک مثال بن سکے۔

عمران خان سمیت اڈیالہ جیل میں قید ان افراد کی منتقلی سے متعلق سوال پر، جن کے مقدمات اسلام آباد کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد کی عدالتوں کے قیدیوں کو نئی جیل منتقل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جیل کے پہلے مرحلے میں 1,500 قیدیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اس گنجائش کو بڑھا کر 3 سے 4 ہزار قیدیوں تک لے جایا جا سکے گا۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اسلام آباد ماڈل جیل کی نگرانی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اسے ہر لحاظ سے ماڈل جیل بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے لیے بھی متعلقہ ادارے پوری طرح تیار ہیں۔

WhatsApp
Get Alert