کوئٹہ کے نواحق علاقے سورینج سے دن دہاڑے شہریوں کے اغواء پر حکومت اور پولیس مکمل مفلوج، امن و امان کی بدترین صورتحال نے حکومتی رٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا: پشتونخوا نیپ
سورینج کول مائنز سے ملک نورالدین کے 29 سالہ فرزند سراج الدین کا اغواء کھلی لاقانونیت ہے، محض بیانات کے بجائے فوری بازیاب کرایا جائے: اعلامیہ

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور سورینج کے علاقائی سیکرٹری ملک نورالدین کاکڑ کے 29 سالہ فرزند سراج الدین کاکڑ کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے واقعے کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔پارٹی کے بیان کے مطابق سراج الدین ولد ملک نورالدین کاکڑ، قوم کاکڑ یاسینزی، کو 19 اکتوبر بروز پیر پی ایم ڈی سی سورینج کول مائنز کے علاقے میں واقع ایک دکان سے مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر اغوا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ واقعے کو کئی روز گزرنے کے باوجود مغوی کی بازیابی نہ ہونے سے ان کے اہلِ خانہ اور علاقے کے لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ شہریوں کو کاروبار اور روزمرہ زندگی میں تحفظ فراہم کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دن دہاڑے شہریوں کا اغوا ہونا اور ان کی بازیابی کے لیے مثر اقدامات سامنے نہ آنا امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھاتا ہے۔ پارٹی کے مطابق عوام کو محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ شہریوں کے اغوا جیسے سنگین واقعات پر خاموشی یا غفلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے سراج الدین کاکڑ کی فوری، محفوظ اور غیر مشروط بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں، واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مغوی کے اہلِ خانہ کو بازیابی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے۔ بیان میں ملک نورالدین کاکڑ اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور متعلقہ حکام کو مزید تاخیر کے بغیر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
