سیاسی انتقام کے ذریعے عوامی نمائندوں کو دبانے کی حکومتی سازش ناکام ہوگی، اصغر اچکزئی کی گرفتاری انصاف کا قتل ہے: اے این پی
مدعی کے حلفیہ بیان کے باوجود قید رکھنا بدنیتی کا ثبوت ہے، قانونی و سیاسی محاذ پر بھرپور مزاحمت اور جمعہ کو اہم پریس کانفرنس کا اعلان

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی کابینہ، پارلیمانی پارٹی، مرکزی عہدیداران، نیشنل لائرز فورم، ملگری وکیلان، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور ضلع کوئٹہ کا مشترکہ اجلاس قائم مقام صوبائی صدر جمال الدین رشتیا کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کے خلاف چمن کی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کی اب تک کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کے شرکائ نے اصغر خان اچکزئی کے خلاف مقدمے اور ان کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصغر خان اچکزئی محض فکرِ باچاخان کے پیروکار اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ہی نہیں بلکہ بلوچستان میں پشتون، بلوچ اور ہزارہ اقوام کے غصب شدہ حقوق قومی وسائل پر اختیار اور عوام کے جمہوری آئینی و بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے ایک توانا آواز ہیں وہ صوبے کے نامساعد حالات کے باوجود پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اجلاس میں کہا گیا کہ اصغر خان اچکزئی کو ایک بے بنیاد مقدمے میں ملوث کرنا اور انہیں قید رکھنا میرٹ کے برعکس اور قانون و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے سیاسی قیادت کو بدنیتی پر مبنی مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے دبانے کے بجائے آئین قانون اور انصاف کے اصولوں کے مطابق معاملات کو آگے بڑھایا جانا چاہیے اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی صوبائی صدر اور پارٹی کی سیاسی و جمہوری جدوجہد کے دفاع کے لیے تمام آئینی،قانونی جمہوری اور پرامن مزاحمتی راستے اختیار کرے گی پارٹی قیادت نے واضح کیا کہ عوام کے حقوق? قومی وسائل پر اختیار اور جمہوری آواز کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ 30 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے کوئٹہ پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں اصغر خان اچکزئی کے مقدمے کی صورتحال?پارٹی کے مؤقف اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم اعلانات کیے جائیں گے اجلاس میں پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ صوبائی تنظیم کی جانب سے جو بھی شیڈول دیا جائیگا اس پر من و عن عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے تیار اور مستعد رہیں اور پارٹی نظم و ضبط کے تحت اپنی پرامن مزاحمت سیاسی جد وجہد و جمہوری سرگرمیاں جاری رکھیںa
