محکمہ آبپاشی کی نااہلی سے نصیرآباد کا گرین بیلٹ بنجر ہونے لگا، زرعی پانی کے شدید بحران پر کاشتکاروں نے قومی شاہراہ جام کر دی
پٹ فیڈر میں 5500 کیوسک کے کاغذی دعوے، عملی طور پر پینے کا پانی بھی نایاب، گندم کی عدم کاشت سے اربوں کے نقصانات: دھرنے سے خطاب

ڈیرہ مراد جمالی (ڈیلی قدرت کوئٹہ) نصیرآباد تمبو میں زرعی پانی کے بحران نے شدت اختیار کرلی سینکڑوں زمین دار اور کاشتکار سراپا احتجاج بن گیے ڈیرہ مراد جمالی پٹ فیڈر پل پر دھرنا دے دیا قومی شاہراہ کو بلاک کردیا کئی گھنٹوں تک سندھ اور بلوچستان کے درمیان ٹریفک معطل ہزاروں گاڑیوں کی لمبی قطریں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا پولیس کے مطابق نصیرآاباد کے سب سے بڑے زرعی علاقے تمبو میں زرعی پانی کے بد ترین بحران اور لاکھوں ایکڑز پر گندم کی عدم کاشت کے خلاف میر مزار خان عمرانی کی قیادت میں سینکڑوں زمین دار اور کاشتکار ایک احتجاجی ریلی کی شکل میں ڈیرہ مراد جمالی پہنچ کر پٹ فیڈر پل کے مقام پر دھرنا دیکر قومی شاہراہ کو بلاک کردیا جس سے سندھ اور بلوچستان کے درمیان چلنے والی ٹریفک معطل ہو گئی اور ہزاروں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی مظاہریں نے کہا کہ نصیرآباد کے گرین بلٹ کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنجر کیا جارہا ہے محکمہ اریگشن دعوی کرتا ہے پٹ فیڈر کینال میں پانچ ہزار پانچ سو کیوسک پانی چل رہا ہے جبکہ پٹ فیڈر کینال میں اس وقت محض دو ہزار کیوسک پانی چل رہا ہے جس سے ربی کینال اور تمبو کے لاکھو ایکڑز اراضیات میں گندم سمیت دیگر زرعی فصلات کی عدم کاشت سے اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے کاشت کاری تو اپنی جگہ اب لوگوں کو پینے کا پانی دستیاب نہیں اس موقع پر محکمہ ایریگشن کے خلاف سخت نعرے بازی بھی کی گئی جبکہ محکمہ ایریگشن میں نیے تعنیات ہونے والے ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال شمس ایس ڈی او ظاہر مینگل کی احتجاج دھرنے مینںپہنچ گئے اور مظاہرین سے کامیاب مزاکرات کرکے دھرنا ختم کروایا گیا جس سے ٹریفک روانگی بحال ہوئی ۔
