تفتان سے منسلک تمام ایرانی تجارتی راہداریاں چھوٹے کاروباریوں کے لیے کھولی جائیں، خوردونوش کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی ختم کی جائے، بس ٹرانسپورٹ یونین


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)چیئرمین تفتان بس ٹرانسپورٹ یونین محمود خان بادینی نے مطالبہ کیا ہے کہ تفتان اور ماشکیل سے منسلک ایرانی سرحدی راستوں کو تمام چھوٹے کاروباریوں کے لیے مکمل طور پر بحال کیا جائے اور قومی شاہراہ این 40 پر خوردونوش کی اشیا کی نقل و حمل پر عائد پابندی ختم کی جائے۔اپنے بیان میں محمود خان بادینی نے کہا کہ گزشتہ کئی عرصے سے تفتان اور ماشکیل سے منسلک ایرانی سرحدوں کی بندش اور این 40 پر خوردونوش کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی کے باعث لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ ان میں تفتان روٹ کے ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے کاروباری افراد شامل ہیں، جبکہ ان کے خاندان بھی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحدی کاروبار کی بحالی اور عبدوئی و مکران سرحدی راستوں کی طرح تفتان اور رخشان سے منسلک ایرانی سرحدوں کی تمام تجارتی راہداریوں کو کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔محمود خان بادینی نے کہا کہ سرحدی تجارت میں غریب اور محنت کش طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے مثر اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ سرحدی کاروبار کو مخصوص انتظامی گروہوں اور مبینہ سرحدی مافیا کے تسلط سے آزاد کرنے کے لیے منصفانہ، شفاف اور جواب دہ نظام وضع کیا جائے، تاکہ بدعنوانی کی روک تھام، امن و امان کی بہتری اور مقامی آبادی کو کاروباری سرگرمیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت کی بحالی اور منصفانہ نظام کے قیام سے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد مضبوط ہو سکتا ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے بے روزگاری اور محرومی میں کمی آئے گی، جس کے مثبت اثرات امن و امان کی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام کے لیے سرحدی تجارت سمیت تمام مثبت معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور عوام کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ ترقی، انصاف اور پائیدار امن کو فروغ مل سکے۔

WhatsApp
Get Alert