حکمرانوں کی اندرونی بدکاریوں اور نااہلی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا، حکومتی مخالفت کو غداری قرار دینا بند کیا جائے: محمود خان اچکزئی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے محبوب چیئرمین، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور ملک کے جمہوری صف کے عظیم رہبر محترم محمود خان اچکزئی نے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوبی پشتونخوا زون کی زونل کانفرنس سے صدارتی خطاب میں کہا کہ پاکستان انتہائی بحرانی حالت میں ہے، یہ بحران خارجی دشمنوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری اندورنی بدکاریوں، رشوت خوری، بے ایمانی کی وجہ سے پاکستان مشکل میں ہے، حکمرانوں کی مخالفت کو غداری سمجھا جاتا ہے ہم ریاست کے مخالف نہیں، ہم پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے اپنی حق حکمرانی چاہتے ہیں، خیبر پشتونخوا کے لانگ مارچ کے موقع پر مذاکرات ہورہے تھے اور نتیجہ خیز ثابت ہوگئے،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی یہ مطالبہ کررہا تھا میں یہ دھرنا ختم کرونگا صرف مجھے میرے لیڈر عمران خان سے ملنے دیا جائے،انہیں مذاکرات کرنے والوں نے پوچھے بغیر راضی کردیا تھا کہ ٹھیک ہے، درمیان میں اتوار تھا سوموار کے دن ہم عمران خان سے ملاقات کرینگے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب بحیثیت مذاکرات کنندہ جب صبح وہاں گئے تو انہوں نے کہا کہ کابینہ کا اجلاس ہوگا اور اجلاس میں پھر یہ فیصلہ ہوا کہ خیبر پشتونخوا میں گورنر راج کیوں کہ وہاں دہشت گردی ہے۔ کونسی دہشت گردی؟ سندھ میں کچے کے علاقے میں بچوں، عورتوں کو اغواء کیا جارہا ہے اور سندھ حکومت بارہا کہتی رہی کہ ہماری وہاں رٹ نہیں ہے۔ یہاں ہمارے صوبے میں جو کچھ ہورہا ہے یہ پشاور خیبر پشتونخوا سے حالات بدتر ہے لیکن یہاں کیوں گورنر راج نہیں لگایا گیا۔ آج بھی پاکستان ایک اچھا ملک بن سکتا ہے او راس کا واحد راستہ یہ ہے کہ یہاں جمہوری اداروں کو مضبوط کیا جائے، منتخب پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنایا جائے، ہر ادارہ آئین کے متعین کردہ حدود میں رہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکومت 24کرورڑ انسانوں کو دہشت زدہ کرکے دوسروں کی مینڈیٹ پر بیٹھ گئی ہے، اس دہشت گردی کا ایک ہی علاج ہے کہ ہم توبہ کریں، مذاکرات کرے اور ایک جمہوری پاکستان کی تشکیل میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا زون کے کامیاب کانفرنس پرتنظیم کے تمام کارکنوں اور منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کیا۔

WhatsApp
Get Alert