فوری انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عدالتوں کے ذریعے مظلوم کی حق رسی فوری کی جائے، سینیٹر رانا ثناءاللہ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی مشیر سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے تھپڑ کا بدلہ تھپڑ سے دلوانے کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فوری انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عدالتوں کے ذریعے مظلوم کی حق رسی فوری کی جائے، آپ مجھے بتائیں، آپ یا میں سڑک پر جا رہے ہوں، ایک اوباش آدمی آکر 10 تھپڑ رسید کرے اور ہمیں سب کے سامنے رسوا کر دے تو مجھے بتائیں کہ آپ کے قانون میں اس کیلئے کیا سزا ہے؟ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگانا کیوں ضروری تھا اس پر بہت دفعہ بات ہوچکی ہے، گورنر راج 6ماہ بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔
پی ٹی آئی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کررہی تھی، صوبائی حکومت آپریشن میں تعاون کی بجائے رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کافی عرصے سے جاری ہے، بھارت سندور فیز ٹو پاکستان کے خلاف چلا رہا ہے، انڈیا نے افغانستان کے راستے پاکستان پر دہشتگردی مسلط کررکھی ہے، اس دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس آپریشن جاری ہے۔
اب اس میں صوبائی حکومت کے کردار کے بعد مزید تیزی لائی جائے گی۔پشاور میں ایپکس کمیٹی کا جو اجلاس ہوا، اس میں فیلڈ مارشل نے بھی خطاب کیا ، اس میں انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ دہشتگردی پر بتایا کہ افغانستان سے یہ کہاں آپریٹ ہورہی ہے، اور اس دہشتگردی کے پیچھے کس کس کا ہاتھ ہے ، انہوں نے تین چار ماہ کا عرصہ بیان کیا تھا۔ اس میں چند دن مزید بھی لگ سکتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ حکومت کا دہشتگردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ 100فیصد حقائق پر مبنی ہے، اس کے شواہد بھی موجود ہیں، سہیل آفریدی کی تقاریر بھی موجود ہیں کہ میں اس آپریشن کو نہیں ہونے دوں گا، وہ قبائل جو آپریشن میں تعاون کرتے تھے ، یہ جاکر ان کو عدم تعاون کی ہدایت کرتے رہے ہیں۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ آپ مجھے بتائیں، آپ یا میں سڑک پر جا رہے ہوں، ایک اوباش آدمی آکر 10 تھپڑ رسید کرے اور ہمیں سب کے سامنے رسوا کرے، آپ کے قانون میں اس کیلئے کیا سزا ہے؟ بتائیں مجھے۔

WhatsApp
Get Alert