محسن نقوی نے کابینہ اجلاس میں کہا خیبرپختونخواہ حکومت کو ایک موقع اور دے لیتے ہیں، قیصر شیخ کا انکشاف

کچھ وزرا نے تائید کی، شہباز شریف نے کہا ٹھیک ہے، وقفے کے بعد شہباز شریف نے بتایا بات نہیں بن سکی، ایمرجنسی لگانا پڑے گی، پھر کابینہ نے منظوری دے دی؛ وفاقی وزیر کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دینے والے وفاقی کابینہ کے اہم ترین اجلاس کی اندرونی کہانی بیان کردی، جس میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ کابینہ کے پہلے سیشن کے دوران کئی وزراء نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو ایک اور موقع دینے کی تجویز دی تھی۔
صحافی نعیم اشرف کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر قیصر شیخ نے بتایا کہ جب کابینہ کا اجلاس شروع ہوا تو اس دوران محسن نقوی سمیت دیگر وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخواہ میں ہنگامی حالت یا گورنر راج نافذ کرنے میں کوئی جلدی نہیں کی جانی چاہیے اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ایک اور موقع دیا جانا چاہیئے، میں نے خود بھی اس تجویز کی بھرپور تائید کی تھی کہ سیاسی محاذ آرائی کو مزید بڑھانے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔


ان کا کہنا ہے کہ وزراء کے اصرار پر وزیراعظم نے اجلاس میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کر دیا اور وزیر خارجہ و وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کریں اور ان کا مؤقف معلوم کریں، کابینہ کے پہلے سیشن کے دوران مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی کسی بھی بات چیت کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی اجلاس میں سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے جیسی کسی شرط کا کوئی ذکر کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ جب وقفے کے بعد کابینہ کا دوسرا سیشن شروع ہوا تو وزیراعظم نے ارکان کو آگاہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک یا دیگر ذرائع سے رابطہ اور بات چیت کی گئی ہے، لیکن فریقین کے درمیان معاملات طے نہیں پا سکے اور بات کسی مثبت نتیجے پر نہیں پہنچی، وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ اس ناکامی کے بعد اب صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔

WhatsApp
Get Alert