پنجاب حکومت کا چھوٹے کسانوں کے لیے 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضوں کا اعلان، گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کی ہدایت

لاہور(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے چھوٹے کسانوں کے لیے 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے کو مضبوط بنانے اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ 3 کروڑ روپے سے زائد قرض لینے والے کسانوں سے 2 فیصد سود وصول کیا جائے گا، جبکہ 5 کروڑ روپے تک کے قرضوں پر سود کی شرح 5 فیصد ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کسان کارڈ پروگرام سے 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ہر کسان کو فصل کی بوائی کے سیزن سے قبل ڈیڑھ لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
ایک ہزار زرعی انٹرنز بھرتی کرنے کا اعلان
مریم نواز نے اعلان کیا کہ رواں سال ایک ہزار زرعی انٹرنز بھرتی کیے جائیں گے تاکہ کسانوں کو زرعی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔
انہوں نے زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پنجاب حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔
گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو گندم کی خریداری کے لیے 4500 روپے فی 40 کلوگرام امدادی قیمت پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ملکی خوراک کی تقریباً 70 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آم، کینو، آلو اور دیگر زرعی اجناس کی درجہ بندی، پراسیسنگ اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے جدید پراسیسنگ پارکس قائم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت نے کھاد اور زرعی اجناس کی بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں تاکہ کسانوں کو ضروری زرعی اشیا مناسب طریقے سے دستیاب ہو سکیں۔
پانی چوری کے خلاف سخت کارروائی جاری
مریم نواز نے کہا کہ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے پانی چوری کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ آبپاشی کا پانی نہروں کے آخری سروں تک پہنچایا جائے تاکہ چھوٹے کسانوں کو اپنے جائز حصے کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ہر کسان کو اس کے حصے کا پانی ملنا چاہیے اور کسی کو بھی غیر قانونی طور پر دوسرے کسان کے حصے کا پانی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
پنجاب کسان بینک جلد فعال ہو جائے گا
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید بتایا کہ پنجاب کسان بینک کے قیام کا کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ ادارہ جلد کام شروع کر دے گا۔
ان کے مطابق اس بینک کے قیام کا مقصد کسانوں کے لیے بینکاری اور مالیاتی سہولیات تک رسائی آسان بنانا ہے، تاکہ انہیں زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی معاونت حاصل ہو سکے۔
واضح رہے کہ قرضوں کی شرحِ سود، اہلیت کے معیار اور دیگر شرائط پر عملی درآمد متعلقہ حکومتی نوٹیفکیشنز اور قواعد کے مطابق ہوگا۔
