سیاست کا اصل معیار کردار ہے، معاشرے میں امن کے قیام کے لیے قانون کا احترام ناگزیر ہے، مولانا محمد خان شیرانی

علماء کرام فتوے دینے اور انتشار پھیلانے کے بجائے دلیل، برداشت اور ذمہ داری کا شعور اجاگر کریں


کوئٹہ پریس کلب میں ’’شعور آگاہی بیاد سید شمس الدین شہید سیمینار‘‘ سے جے یو آئی رہنماؤں کا خطاب
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ بنیادی زندگی اور اجتماعی زندگی میں بہت بڑا فرق ہے، سیاست کا اصل معیار کردار ہوتا ہے، اگر معاشرے میں امن قائم کرنا ہے تو حاکم کی عمل داری کو تسلیم کرنے اور قانون کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء کرام اور مفتیانِ دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی درست رہنمائی کریں، بغیر دلیل فتوے دینے اور معاشرے میں انتشار پیدا کرنے کے بجائے لوگوں میں شعور، برداشت اور ذمہ داری کا احساس اجاگر کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ ’’شعور آگاہی، بیاد سید شمس الدین شہید سیمینار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی صدر مولانا عبدالمالک، جمعیت طلبہ اسلام کے مرکزی صدر حافظ نواز، صوبائی صدر سید محمد شاہ، حاجی عبدالرازق، آمین اللہ، عبدالوارث اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے معاشرے میں شعور و آگاہی کے فروغ، فکری رہنمائی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا۔مولانا محمد خان شیرانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ انسان جب اجتماعی زندگی کا حصہ بنتا ہے تو اس پر معاشرتی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ ایک پرامن اور منظم معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ افراد اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کریں اور اجتماعی معاملات میں قانون اور نظم و ضبط کی پابندی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست محض اقتدار کے حصول یا نعروں کا نام نہیں بلکہ سیاست میں کردار، اصول، ذمہ داری اور عوام کی رہنمائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل سے معاشرے میں مثبت مثال قائم کریں اور عوام کو اختلافات کے باوجود برداشت، مکالمے اور قانون کی پاسداری کا درس دیں۔مولانا محمد خان شیرانی نے علماء کرام اور مفتیانِ دین کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دینی رہنماؤں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی صحیح رہنمائی کریں۔ دینی معاملات میں کسی بھی رائے یا فتوے کی بنیاد مستند علم، دلیل اور متعلقہ شرعی اصول ہونے چاہئیں۔ محض جذبات کی بنیاد پر لوگوں کی رہنمائی کرنے کے بجائے انہیں حقائق سمجھانا اور درست راستہ دکھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی تعلیمات کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا جائے۔ علماء کرام عوام کو ایسے معاملات میں رہنمائی فراہم کریں جن سے معاشرتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داریوں کو فروغ ملے۔ دینی رہنمائی کا مقصد لوگوں میں فہم و شعور پیدا کرنا اور انہیں مثبت طرزِ عمل کی طرف راغب کرنا ہونا چاہیے۔جہاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ بعض علماء کی جانب سے جہاد کی ترغیب دی جاتی ہے، تاہم ایسے معاملات میں دلائل اور متعلقہ شرعی اصولوں کو واضح کرنا ضروری ہے۔ دینی معاملات کو محض جذباتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے ان کی علمی بنیاد اور درست مفہوم کو سمجھنا اور سمجھانا چاہیے تاکہ عوام کسی ابہام یا غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں شعور و آگاہی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لوگوں کو اپنے حقوق، فرائض، سماجی ذمہ داریوں اور اجتماعی زندگی کے تقاضوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ جب افراد ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں تو معاشرے میں امن اور استحکام کے امکانات بڑھتے ہیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ سید شمس الدین شہید کی یاد میں شعور و آگاہی کے عنوان سے تقریب کا انعقاد فکری اور سماجی مباحث کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے معاشرے میں مثبت سوچ، علمی مکالمے، تعلیم اور عوامی شعور کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔مقررین نے کہا کہ نوجوانوں کی فکری تربیت، علماء کرام کی ذمہ دارانہ رہنمائی اور سیاسی و سماجی قیادت کا مثبت کردار ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے سیمینارز کے ذریعے معاشرے کو درپیش مسائل پر گفتگو اور ان کے حل کے لیے مثبت تجاویز سامنے لائی جا سکتی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert