ریاست کا ماں جیسا درجہ، مولانا فضل الرحمان کے نازیبا الفاظ سے قوم کو شدید تکلیف پہنچی، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور اس کے خلاف یا ماں سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال قابل مذمت اور کسی صورت قبول نہیں ہیں۔
ایوان بالا سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان، مولانا عطا الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کا مکمل احترام کرتے ہیں، تاہم مولانا فضل الرحمان کے ریاست ماں کے خلاف پے در پے بیانات سے پوری قوم کو تکلیف پہنچی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شہدا کے بارے میں بھی گفتگو کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ ریاست کے خلاف دیے جانے والے بیانات ناقابلِ قبول ہیں۔
انہوں نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے اس مؤقف کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ریاست ایسا رویہ نہ رکھے تو کچھ نہیں کہیں گے۔
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ جب ریاست کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے تو اس کے بارے میں ایسے الفاظ ہرگز استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ تھوڑے عرصے قبل شہدا کے حوالے سے بھی ایسی ہی باتیں کی گئی تھیں، اس لیے اپنی ذاتی انا کو اجتماعی مفاد پر مقدم نہیں رکھنا چاہیے۔
جیل سہولیات اور سپریم کورٹ کے معاملات
جیل میں قیدیوں کو ملنے والی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔
جیل میں فراہم کی جانے والی تمام سہولیات کے بارے میں خود قیدی کے اپنے وکیل نے عدالتِ عظمیٰ کو آگاہ کیا اور جو رپورٹ سپریم کورٹ اور ان کے وکلا کو دی گئی تھی اس میں اور حقیقت میں کوئی فرق نہیں تھا۔
نورین نیازی کی گرفتاری اور طبی سہولیات
پی ٹی آئی رہنما نورین نیازی کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ عوام کو ورغلا رہی تھیں اور اسلام آباد پر چڑھائی کرکے ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ طبیعت خراب ہوتے ہی نورین نیازی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ نورین نیازی کی تمام طبی رپورٹس بالکل ٹھیک آئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سڑکوں پر انتشار پھیلانے کے بجائے عدالت میں جا کر قانونی طریقے سے ریلیف حاصل کرے۔ واضح رہے کہ رانا ثنا اللہ کی اس گرما گرم تقریر کے دوران سینیٹر مشال یوسفزائی نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر شدید احتجاج بھی کیا۔
