16 ارب روپے کے نقد انعامات! پاسبان اسکیم میں شامل ہونے کی اہم شرط سامنے آگئی

کراچی (قدرت روزنامہ)پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم میں شمولیت کے لیے اہم شرط جاری کردی گئی، اسکیم کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے انعامات دیئے جائیں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سرپرستی اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے بیرونِ ملک سے قانونی مالی ذرائع کے ذریعے رقم وصول کرنے والے پاکستانیوں کے لیے “پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم” کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے انعامات کی قرعہ اندازی کی جائے گی، جس کے تمام اخراجات شریک بینک اپنے وسائل سے ادا کریں گے اور قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔
اسکیم میں شمولیت کا طریقہ کار
اسکیم میں شرکت کے لیے کسی قسم کی درخواست، ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے، ایس ایم ایس بھیجنے، رجسٹریشن یا کسی فیس کی ضرورت نہیں ہے۔
ہر اہل ترسیلِ زر کی ڈالر کے مساوی رقم کو قریب ترین 100 ڈالر تک راؤنڈ کر کے ون لنک کے ذریعے الگ الگ انٹریاں خودکار طور پر تیار کی جائیں گی تاہم انٹریوں کی تعداد کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔
سب سے اہم اور لازمی شرط
اسکیم کے تحت لکی ڈرا کے لیے اہلیت برقرار رکھنے کے لیے “3 ماہ کی شرط” سب سے بنیادی ہے، ایک ہی اہل اکاؤنٹ میں متعلقہ سہ ماہی کے ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر کے مساوی رقم وصول ہونا ضروری ہے۔
اگر کسی صارف نے صرف ایک ماہ میں بڑی رقم وصول کی اور باقی 2 ماہ رقم نہ آئی تو وہ قرعہ اندازی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔
بننے والی ابتدائی انٹریاں عارضی ہوں گی اور سہ ماہی ختم ہوتے ہی اگلی سہ ماہی میں منتقل نہیں ہوں گی۔
اہم تاریخیں اور انعامات کا شیڈول
اسکیم کا آغاز: 1 اکتوبر 2026ء
پہلی سہ ماہی کا دورانیہ 1 اکتوبر تا 31 دسمبر 2026ء (1 اکتوبر سے پہلے کی ترسیلات شامل نہیں ہوں گی)۔
پہلی قرعہ اندازی: 15 جنوری 2027ء
کامیاب افراد کو قرعہ اندازی والے ماہ کی 21 تاریخ تک رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں (پاکستانی روپے میں) منتقل کر دی جائے گی، جس پر قابلِ اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کاٹا جائے گا۔
اعلان کردہ علاقائی حصوں میں خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک کے لیے 50 فیصد ، برطانیہ 15 فیصد، یورپ 15 فیصد ، شمالی امریکا 10 فیصد اور دیگر ممالک کے لیے 10 فیصد کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پہلا انعام تمام خطوں کے وصول کنندگان کے لیے یکساں طور پر کھلا ہے۔
کون سے اکاؤنٹس اور ترسیلات شامل نہیں؟
کاؤنٹر سے نقد وصول کی گئی ترسیلات، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس ، فارن کرنسی اکاؤنٹس، کمرشل و بزنس اکاؤنٹس، تجارتی و جائیداد کی ادائیگیاں، اور منسوخ یا فراڈ پر مبنی ٹرانزیکشنز اس اسکیم کا حصہ نہیں ہوں گی۔ اس کے علاوہ متعلقہ اداروں اور بینکوں کے ملازمین بھی نااہل ہیں۔
بینکنگ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شرکت یا انعام جاری کرنے کے نام پر کسی بھی شخص کو فیس یا رقم نہ دیں اور اپنے بینک میں درج شناختی معلومات اور رابطہ نمبرز اپ ڈیٹ رکھیں۔
کسی بھی فرد کے ساتھ اپنا OTP، پن (PIN) یا بینک پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں اور سیکیورٹی کی صورتِ حال پر فوراً اپنے بینک سے رابطہ کریں۔
