خواجہ آصف جیسے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، یہ خود فوج کیخلاف باتیں کرتے ہیں، کامران مرتضیٰ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رہنماء جےیوآئی ف کامران مرتضیٰ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی اداروں کو برا نہیں کہتے ہیں، کچھ باتیں محاورتاً ہوجاتی، یہ بیچارے نوکر حضرات ہیں، انہوں نے اپنی نوکری پکی کرنی ہوتی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ ان کی موجودگی میں کوئی ایسی ڈیمانڈ ہوئی ہیں؟ ورنہ خواجہ آصف جیسے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، یہ خود فوج کیخلاف باتیں کرتے ہیں، ہم تو فوج کا احترام کرتے ہیں، ہمارا ملک ہے، ہم کبھی اداروں کو برا نہیں کہتے ہیں، کچھ باتیں محاورتاً استعمال ہوتی لیکن یہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے، کیونکہ انہوں نے نوکری اپنی پکی کرنی ہوتی ہے، یہ بیچارے نوکر حضرات ہیں۔
خواجہ آصف جیسے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، یہ نوکر لوگ ہیں جو خود فوج کے حوالے سے نامناسب زبان استعمال کرتے رہے،، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، رہنما جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضی https://t.co/BgoojPK8dh
— Kamran Murtaza (@KamranM69045926) October 29, 2026
جے یو آئی ف کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کا کہنا ہے کہ میرا اپنے قائد مولانا فضل الرحمان سے گلہ کہ انہوں نے حکومتی اتحاد پر یقین کیوں کیا عالیہ کامران نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے تقریر کل کی تھی لیکن کل ماحول بڑا ٹھنڈا رہا خواجہ آصف مولانا فضل الرحمان کی تقریر کے دوران ہاتھ جوڑتے رہے. انہوں نے کہا کہ پارلیمانی روایات ہیں کہ جب کوئی ممبر موجود نہیں ہوتا تو اس پر بات نہیں کی جاتی، آئین کو توڑنا ان کے لیے مذاق بن گیا ہے تو یہ پارلیمانی روایات کو تو توڑیں گے۔
عالیہ کامران نے کہا کہ خواجہ آصف کل آتے، ہمت دکھا کر مولانا صاحب کے سامنے بات کرتے، رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مولانا صاحب نے حصے والی کوئی بات نہیں کی. عالیہ کامران نے کہا کہ انہوں نے ملک کو میدان جنگ بنایا ہوا ہے، آپ نے ڈیزل ڈیزل کے نعرے ماضی میں سنے ہوں گے وہ بھی کچھ ثابت نہیں کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کرتے رہے ہیں، یہ کہتے ہیں پی ڈی ایم کی حکومت ملی تو اڑھائی وزارتیں ہمیں ملیں، یہ بتائیں کہ اس وقت باقی وزارتیں کون چلا رہا تھا؟ عالیہ کامران نے کہا کہ ہم بے شک آئین کا ساتھ دیتے جیسے ابھی عمران خان اور پی ٹی ائی کے معاملے پر دے رہے ہیں.
