اصغر خان اچکزئی کی قید سیاسی انتقام اور ناانصافی کی بدترین مثال ہے، اے این پی کا 6 نومبر کو آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان

مدعی کے کھلے انکار کے باوجود قید رکھنا بدنیتی پر مبنی ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور وکلاء کے ساتھ مل کر مزاحمت کریں گے: جمال الدین رشتیا


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)کے مرکزی و صوبائی قائدین نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کو گزشتہ دو ہفتوں سے من گھڑت اور جعلی مقدمے میں حراست میں رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما جمال الدین رشتیا و دیگر قائدین نے کہا کہ اصغر خان اچکزئی کی حراست پر تمام سیاسی جماعتوں، وکلا اور سول سوسائٹی کے اظہارِ تشویش پر وہ ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جس مقدمے کی بنیاد پر اصغر خان کو قید میں رکھا گیا ہے، اس کا مدعی خود اصغر خان اور اس کیس میں ان کی کسی قسم کی شمولیت سے واضح انکاری ہے۔جمال الدین رشتیا نے کہا کہ اے این پی عدالتوں اور آئین کی بالادستی پر کامل یقین رکھتی ہے، تاہم اصغر خان کے مقدمے کے حوالے سے تشویش دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں میرٹ اور انصاف کے تقاضے پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اس ناانصافی اور مجموعی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر 6 نومبر کو ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں، وکلا برادری اور انجمنِ تاجران کو باقاعدہ دعوت دی جائے گی۔ اس کانفرنس میں آئندہ کے مشترکہ لائحہ عمل کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ رہنماں نے واضح کیا کہ اے این پی باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے اور اپنے حقوق کے لیے پرامن آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔

WhatsApp
Get Alert