بلوچستان بی ای ڈی اے ایکٹ کے تحت 72 ڈاکٹروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے فرائض سے طویل غیر حاضری کا جواز بنا کر گریڈ 17 کے میڈیکل آفیسران اور گریڈ 18 کے سینئر میڈیکل آفیسران سمیت مجموعی طور پر 72 ڈاکٹروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بعد بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (بی ای ڈی اے) ایکٹ 2011 کے سیکشن 4(b)(viii) کے تحت برطرفی کی بڑی سزا عائد کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق برطرف کیے گئے میڈیکل آفیسران میں کوئٹہ، پشین، کچھی، بولان، خضدار، سبی، تربت، مستونگ، قلات، گوادر، قلعہ عبداللہ، لورالائی، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، آواران، جعفرآباد، کوہلو، لسبیلہ، کیچ، زیارت، پنجگور اور نوشکی سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے لوکل و ڈومیسائل رکھنے والے ڈاکٹرز شامل ہیں۔ سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن کے دستخط سے جاری کردہ اس فیصلے کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
PDF
+ 4
دوسری جانب صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر محکمہ صحت کے نظام کو بہتر کیا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ کی قیادت میں محکمے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طبی عملے کی غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کسی صورت بھی برداشت نہیں کرے گی۔ صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہم نے روز اول سے کہا تھا کہ عوام کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچائیں گے، تمام طبی عملہ سن لے کہ عوام کی خدمت میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت اور غیر سنجیدہ روش رواں رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
ادھر عوامی اور طبی حلقوں کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت دور دراز اضلاع کے ہسپتالوں میں ادویات، بنیادی ڈھانچے، مشینری اور حفاظتی ماحول کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جبکہ ہسپتالوں کی ویرانی اور انتظامی بدحالی کا سارا ملبہ ڈاکٹروں پر ڈال کر یکطرفہ برطرفیوں کے ذریعے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے صوبے کے دیہی علاقوں میں طبی عملے کی شدید کمی اور صحت کا بحران مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔
