’وفاق کے پاس دو آپشن ہیں، سہیل آفریدی نااہل یا علی امین کی حکومت بنے‘

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ وفاق کے پاس دو آپشن ہیں، سہیل آفریدی کو نااہل کروایا جائے یا پھر علی امین گنڈاپور کی حکومت بنے۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی حکومت سے پی ٹی آئی میں اختلافات بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج کو شاید توسیع نہ مل سکے، کے پی اسمبلی دو ماہ بعد بحال ہوجائے گی۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ گورنر راج سے پیدا ہونے والے معاملات ن لیگ کے کھاتے میں پڑیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں رکن اسمبلی نے کہا کہ مولانا نے ہمیشہ سیاست میں پریشر گروپ کا کردار ادا کیا ہے، اپنا مقصد نکالنے کے بعد وہ کسی کے ساتھی نہیں رہتے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا ہے اور صوبائی پارلیمانی پارٹی اس حوالے سے 6 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کرنے جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ گزشتہ رات ہونے والے پی ٹی آئی کے صوبائی پارلیمانی اجلاس میں کیا گیا، جس میں 46 ارکان نے شرکت کی جب کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی جس میں بیرسٹر گوہر، علی امین گنڈاپور اور نور الحق قادری شامل ہوں گے، وہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرے گی۔ اس کمیٹی میں کے پی اسمبلی کے تین ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا۔
