بلوچستان کے سرکاری کھاتوں میں 7 ارب 71 کروڑ روپے کا فرق
سرکاری اسکالرشپس پر بیرون ملک جانے والے 63 میں سے صرف 12 اسکالرز واپس آئے

، 11 کروڑ 85 لاکھ روپے کی ممکنہ وصولی کا معاملہ پی اے سی میں زیر بحث
بیوٹمز میں اضافی چارج الانس کی مد میں 36 لاکھ 4 ہزار روپے کی زائد ادائیگی کا انکشاف
پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس، سرکاری خزانے کے تحفظ اور مالیاتی بے ضابطگیوں پر سخت موقف
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا نئی اسمبلی عمارت کے کمیٹی روم نمبر 43 میں پہلا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سرکاری محکموں کے مالیاتی حسابات، آڈٹ اعتراضات اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) سے متعلق مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سرکاری کھاتوں میں اربوں روپے کے فرق، اسکالرشپ معاہدوں کی خلاف ورزی اور اضافی چارج الانس کی زائد ادائیگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو آڈٹ اعتراضات نمٹانے کی ہدایات جاری کیں۔اجلاس میں کمیٹی اراکین رحمت صالح بلوچ، ولی محمد نورزئی اور زابد علی ریکی سمیت سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اکانٹنٹ جنرل بلوچستان نصراللہ جان، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، سیکرٹری خزانہ محمد جہانگیر کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری پبلک اکانٹس کمیٹی و سوالات سراج لہڑی اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال نے شرکت کی۔اجلاس کے پہلے سیشن میں اکانٹنٹ جنرل بلوچستان کی سرٹیفکیشن آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدا میں سیکرٹری خزانہ کی عدم موجودگی پر چیئرمین اور اراکین نے تشویش ظاہر کی۔ رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ سرٹیفکیشن آڈٹ جیسے اہم مالیاتی اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کی موجودگی ضروری ہے تاکہ متعلقہ معاملات پر براہ راست وضاحت حاصل کی جا سکے۔ بعد ازاں سیکرٹری خزانہ اجلاس میں شریک ہوئے اور مالیاتی امور پر بریفنگ دی۔آڈٹ رپورٹ میں سرکاری رقوم کے کیش بیلنس اور کتابی حسابات میں فرق جبکہ بینکوں کے ریکارڈ سے مطابقت نہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 30 جون 2023 تک مالیاتی گوشواروں میں متعلقہ کھاتوں کا بیلنس 23 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد تھا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ میں یہ رقم تقریبا 15 ارب 29 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح دونوں ریکارڈز میں تقریبا 7 ارب 71 کروڑ روپے کا فرق موجود تھا۔آڈٹ حکام کے مطابق اس فرق کی وجوہات میں مالیاتی ریکارڈ کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونا، غیر ادا شدہ چیکس کی پوسٹنگ نہ ہونا اور اسٹیٹ بینک و نیشنل بینک کے ساتھ کھاتوں کی بروقت مطابقت نہ کرنا شامل ہیں۔ چیئرمین اصغر علی ترین نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری مالیاتی ریکارڈ کی بروقت مطابقت نہ ہونا محکمہ خزانہ کے نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ کئی سال سے زیر التوا اس معاملے کو حل کیوں نہیں کیا گیا اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کے ساتھ تمام مالیاتی کھاتوں کی باقاعدہ مطابقت یقینی بنانے کے لیے مستقل نظام قائم کیا جائے۔ سیکرٹری خزانہ محمد جہانگیر کاکڑ نے تسلیم کیا کہ مالیاتی حسابات کی ماہانہ بنیادوں پر مطابقت محکمہ خزانہ کی ذمہ داری ہے اور یقین دہانی کرائی کہ اکانٹنٹ جنرل، اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کے تعاون سے ہر ضلع کی سطح پر یہ عمل مکمل کیا جائے گا۔اراکین پی اے سی زابد علی ریکی، ولی محمد نورزئی اور رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ محکمہ خزانہ سمیت بعض محکمے کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد نہیں کرتے، جو تشویش کا باعث ہے۔ چیئرمین اصغر علی ترین نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے استعمال، مالیاتی حسابات اور آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینا کمیٹی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ آڈٹ پیراز اور زیر التوا اعتراضات پر عملدرآمد ڈیڑھ ماہ کے اندر مکمل کیا جائے، بصورت دیگر ذمہ دار حکام کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔اجلاس کے دوسرے سیشن میں بیوٹمز سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور یونیورسٹی کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔کمیٹی کے سامنے یونیورسٹی کی جانب سے بیرون ملک پی ایچ ڈی اسکالرشپس کے لیے بھیجے گئے 63 لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے معاہدوں کی خلاف ورزی کا معاملہ پیش کیا گیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق ان اسکالرز سے 11 کروڑ 85 لاکھ 45 ہزار روپے کی ممکنہ وصولی کا معاملہ زیر التوا ہے، کیونکہ مقررہ مدت میں صرف 12 اسکالرز واپس رپورٹ ہوئے جبکہ دیگر کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے باوجود واجب الادا رقم اور جرمانوں کی وصولی نہیں ہو سکی۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ متعلقہ پالیسی کے تحت معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے اسکالرز سے اسکالرشپ کے اخراجات اور 25 فیصد تک جرمانہ وصول کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیٹی کو بتایا کہ غیر حاضر اسکالرز سے بانڈ کی رقم ایک سال کے اندر اقساط میں وصول کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے، متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں اور جامعات کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق آئندہ اسکالرشپس کے لیے ڈالر کی قدر کے مطابق بانڈ، سرکاری ملازمین کو ضامن بنانے اور جائیداد کی ضمانت جیسی شرائط کو مثر بنایا جا رہا ہے۔کمیٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے سرکاری وسائل کے تحفظ اور اسکالرشپ معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔بیوٹمز سے متعلق ایک اور آڈٹ اعتراض میں اضافی چارج الانس کی مد میں 36 لاکھ 4 ہزار روپے کی زائد ادائیگی کا معاملہ سامنے آیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2021 کے دوران 22 لاکھ 95 ہزار روپے کے بجائے 58 لاکھ 99 ہزار روپے ادا کیے گئے، جبکہ بعض افسران کو مقررہ چھ ماہ کی مدت سے زیادہ عرصے تک اضافی چارج الانس دیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بتایا کہ اس معاملے میں بعد از وقت منظوری حاصل کی گئی ہے۔چیئرمین پی اے سی نے اس معاملے پر مالیاتی قواعد کی پابندی، انتظامی شفافیت اور اندرونی نگرانی کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں اور جامعات میں مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی وسائل کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور آڈٹ اعتراضات کے ازالے، رقوم کی وصولی اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
