عام شہری 25 چیک پوسٹوں پر خوار، مسلح جتھے اور ڈاکو سرکاری سرپرستی میں آزاد، قلعہ عبداللہ میں باپ بیٹے کے وحشیانہ قتل کیخلاف پشتونخوامیپ کا چمن میں احتجاجی مظاہرہ

ریاستی آشیرباد میں نجی ملیشیا بے گناہوں کا خون بہا رہی ہے، قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے: قائدین کا تاج روڈ پر خطاب


چمن (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی ہدایت پر ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے کلی تنگ مسے زئی میں حنفیاء کاکڑ اور ان کے بیٹے ولی کاکڑ عرف ولو کے اندوہناک، لرزہ خیز قتل، بدترین ظلم، جبر، بربریت اور سفاکیت کے خلاف ضلع چمن میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔احتجاجی ریلی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے نکالی گئی جس میں تینوں تحصیلوں، علاقائی اور ابتدائی یونٹوں کے کارکنوں، مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے تاج روڈ پر گشت کیا اور احتجاجی دھرنا دیا۔دھرنے سے مرکزی سیکرٹری ناظم صلاح الدین اچکزئی، ضلعی قائمقام سیکرٹری حاجی جمال خان اچکزئی، شیر علی خان، ظریف خان، حاجی جانان اردوزئی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع قلعہ عبداللہ کو مسلح جتھوں، بدنام زمانہ کریمنلز، اغواء کاروں، ڈاکوؤں، بدترین خطرناک اشتہاریوں اور فراریوں کے حوالے کر کے سرکاری سرپرستی میں جدید خودکار اسلحہ کے ذریعے یرغمال بنا رکھا ہے۔مقررین نے کہا کہ معصوم، بے گناہ، نہتے اور لاتعلق عوام کا ناحق خون بہانے، گھروں کو لوٹنے سمیت ہر ناروا کا لائسنس ریاستی اداروں نے دے رکھا ہے۔ مسلح جتھے، نجی ملیشیا، پرائیویٹ مسلح افراد لشکروں اور ٹولیوں کی صورت میں کبھی سرانان، ہنہ، اوڑک، زیارت تو کبھی قلعہ عبداللہ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں، باری باری بڑی بڑی تخریب کاری کر کے باآسانی نکل جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عام شہری کے لیے 25 چیک پوسٹوں سے گزرنا اور تلاشیاں دینا لازم ہے جبکہ ریاستی آشیرباد میں مسلح لاڈلے آزاد گھوم رہے ہیں۔ آج وطن انتہائی مساعد حالات، غیر یقینی صورتحال اور بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ حکومت فوری طور پر کلی تنگ مسے زئی کے قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے اور ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان بحال کرے۔بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

WhatsApp
Get Alert