کوئٹہ میں جرائم میں کمی، 70 لاکھ کی وارداتیں کرنے والا گروہ گرفتار، ڈی آئی جی

کوئٹہ میں جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری، سٹریٹ کرائمز میں 30 فیصد کمی ہوئی، ڈی آئی جی عمران شوکت


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے کہا ہے کہ سریاب روڈ پر دو افراد کے قتل اور بینک ڈکیتی کے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ بینک ڈکیتی کی تحقیقات محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ بینک ڈکیتی میں ایک کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کا پہلو بھی زیرِ تفتیش ہے، جبکہ بینک کی جانب سے غفلت کا عنصر بھی سامنے آیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ پولیس کی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہیں اور عوامی شکایات کی بنیاد پر پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
عمران شوکت کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں کوئٹہ میں سٹریٹ کرائمز میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ پولیس نے قتل کے 87 فیصد مقدمات حل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد جرائم کے لیے عوام نے بھی پولیس کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ہراسگی کے رپورٹ ہونے والے واقعات پر کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ رواں سال سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے دوران 20 پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 20 ملزمان ہلاک اور 27 زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر 150 پولیس مقابلوں میں بھی ملزمان مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے حکومت، عوام اور سکیورٹی فورسز ایک پیج پر ہیں اور سی ٹی ڈی بھی مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کوئٹہ میں ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں سٹریٹ کرائمز کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک گروہ شہر میں وارداتیں کر رہا تھا، جس میں خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ گروہ سفید رنگ کی گاڑی میں وارداتیں کرتا تھا اور اس نے مجموعی طور پر 70 لاکھ روپے مالیت کی وارداتیں کیں۔ پولیس کے مطابق پانچ رکنی گروہ میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔
ڈی آئی جی عمران شوکت نے بتایا کہ تاجر ہاشم نورزئی کے قتل میں ملوث ملزم سعد اللہ نورزئی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سبزل روڈ پر بچے کی بوری بند لاش ملنے کے واقعے کے حوالے سے پولیس حکام نے بتایا کہ قتل میں ملوث بچے کی چچی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ عوامی تعاون اور پولیس کی کارروائیوں کے باعث جرائم کی روک تھام اور مقدمات کی تفتیش میں پیش رفت جاری ہے، جبکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert