کیا سیڑھیاں چڑھنا عادت بنانے سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے؟

لاہور(قدرت روزنامہ)سیڑھیاں چڑھنا متعدد افراد کی روزمرہ کی مصروفیات کا حصہ ہوتا ہے۔
گھر، دفتر یا کسی اور جگہ پر سیڑھیوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے مگر آپ کو کبھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ عادت صحت کے لیے متعدد فوائد کا باعث بنتی ہے۔
درحقیقت روزانہ چند سیڑھاں چڑھنا بھی آپ کو امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچا سکتا ہے۔
مگر یہ عادت جسمانی وزن میں کمی لانے اور توند کی چربی کو تیزی سے گھلانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
موسم سرد ہونے پر صبح اٹھنا زیادہ مشکل کیوں محسوس ہونے لگتا ہے؟
جی ہاں واقعی سیڑھیاں چڑھنے کی جسمانی سرگرمی زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد فراہم کرتی ہے اور جسمانی وزن میں زیادہ کمی آتی ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر آپ جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو روزانہ چند منزلیں سیڑھیاں چڑھنا عادت بنالیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سیڑھیاں چڑھنے کے عمل کے دوران چہل قدمی سے 20 گنا زیادہ کیلوریز جلتی ہیں۔
درحقیقت سیڑھیاں اترنے پر بھی چہل قدمی کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ کیلوریز جلتی ہیں۔
بلڈ پریشر میں کمی لانے کیلئے روزانہ کتنے وقت تک چہل قدمی کرنا بہترین ہے؟
محققین نے بتایا کہ اس عادت کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنانا بھی بہت آسان ہوتا ہے۔
جسمانی وزن میں اضافہ امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے عنصر ہے اور صحت مند وزن کو برقرار رکھنا دل کی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔
اس عادت سے جسمانی فٹنس اور مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ امراض کے خلاف زیادہ لڑنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
اسی حوالے سے امریکن کونسل آن ایکسرسائز کی جانب سے بتایا گیا کہ سیڑھیاں چڑھنے سے ہر ایک منٹ میں 8 سے 10 کیلوریز کو جلایا جاسکتا ہے۔
