بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کی بندش غریب طلباء کا تعلیمی قتلِ عام ہے، ایک کلومیٹر سڑک 25 کروڑ میں بنتی ہے مگر تعلیم کیلئے فنڈز نہیں، فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو حکومتی نااہلی کیخلاف عدالت سے رجوع کریں گے: علی احمد کرد، راحب بلیدی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علی احمد کرد اور راحب بلیدی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں بلوچستان ایجوکیشن اینڈونمنٹ فنڈ کی بندش کو بلوچستان کے طلباء کے ساتھ حکومت کی علم دشمن پالیسیوں کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اس ظالمانہ پالیسی سے اندرون و بیرونِ ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچستان کے ہزاروں غریب اور مستحق طلباء اور ان کے خاندان شدید ذہنی و مالی اذیت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں بے روزگاری، کرپشن، بیڈ گورننس اور بدامنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، سڑکوں اور نالیوں کے نام پر اربوں روپے لٹائے جا رہے ہیں اور وزراء کی کرپشن و کمیشن اپنے عروج پر ہے جہاں محکمہ مواصلات میں ایک کلومیٹر کا روڈ 25 کروڑ روپے سے زائد کی غیر حقیقی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی شدید تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولیات کا شدید فقدان حکومت کی مکمل نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ دنیا بھر میں مہذب اور ترقی یافتہ ریاستیں اپنی آمدن کا بڑا حصہ تعلیم اور انسانی وسائل پر خرچ کرتی ہیں لیکن بلوچستان کے قدرتی و معدنی وسائل سے ملنے والی خطیر رقم کو تعلیمی شعبے کے بجائے حکمرانوں کے شاہانہ و ذاتی اخراجات اور مراعات میں ضائع کیا جا رہا ہے۔ وکلاء رہنماؤں نے ہزاروں زیرِ تعلیم طلباء کا مستقبل داؤ پر لگانے کے اس غیر سنجیدہ اور غیر سیاسی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کی بندش کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو وکلاء ایکشن کمیٹی طلباء کے مستقبل پر ہونے والی اس حکومتی سودے بازی کے خلاف بھرپور لائحہ عمل طے کرے گی، بلوچستان کے نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کو اپنی تحریک کا حصہ بنائے گی اور اس غیر آئینی اقدام کے خلاف عدالتِ عالیہ سے رجوع کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert