وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے جیسے سیاسی منصوبے ختم کردیے جائیں گے، احسن اقبال

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط حکومت پی ٹی آئی کے دور میں شروع کیے گئے ،غیر اہم اور سیاسی نوعیت کی' منصوبوں کو ختم کر دے گی،ان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے منصوبے مثلاً وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا منصوبہ شامل ہے . میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کو ختم کر کے جو فنڈز بچائے جائیں گے انہیں قومی اہمیت کے منصوبوں کی جانب موڑ دیا جائے گا .


انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کا وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ ایک سیاسی منصوبہ‘ تھا اور اسے ڈرامہ قرار دیا . احسن اقبال نے مزید دعویٰ کیا کہ 23 سے 25 ارب روپے جو اس منصوبے کے لیے مختص کیے گئے تھے کوئی نہیں جانتا کہاں خرچ ہوئے .

انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے بے کار منصوبے ختم ہو جائیں گے . وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ مرحوم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے گزشتہ سال اپنی وفات سے قبل انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام کے لیے ایک فزیبلٹی رپورٹ بھیجی تھی .

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن) سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک پراجیکٹ شروع کرے، جسے ہم فوری طور پر منظور کر لیں گے اور جولائی میں اس پر کام شروع کر دیں گے، یونیورسٹی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے منسوب ہو گی . موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے جس میں مسلم لیگ (ن) سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ معیشت کو درست کرنے کے لیے سخت فیصلے کرے گی، احسن اقبال نے کہا کہ آخری سال (عام انتخابات سے قبل) آنے والی حکومت سے یہ توقع رکھنا غیر حقیقی ہے کہ وہ گزشتہ حکومت کے چار سال کے گناہوں کا بوجھ یا اس کی ٹوکری اٹھائے تاہم انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت پچھلی حکومت کے اقدامات کو درست کرنے کے لیے جتنے اقدامات کر سکتی ہے وہ کرے گی .
انہوں نے کہا کہ ہم اسے اپنی ذمہ داری کے طور پر ضرور کریں گے لیکن ہمیں پچھلی حکومت کے گناہوں کی سزا نہیں دی جا سکتی اور انہیں مظلوموں کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا . انہوں نے کہا کہ ہم کسی ایسے بوجھ کو بھی قبول نہیں کر سکتے جو ان لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دے جو پہلے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں کی وجہ سے تھک چکے ہیں . انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اپنی بات چیت میں معیشت اور عوام کے فائدے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرے گی .
وفاقی وزیر نے ترقیاتی محاذ پر گزشتہ حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی 'ناکامیوں اور خسارے کو کم کرنے میں ناکامی' کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ کے حجم میں کمی واقع ہوئی . انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ یا پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ابتدائی طور پر رواں مالی سال 22-2021 کے لیے 900 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جو ا کم کر کے 480 ارب روپے کر دیے گئے تھے .
انہوں نے کہا کہ مختص کیے گئے 480 ارب روپے میں سے تقریباً 42 فیصد صوبائی منصوبوں کے لیے تھے جو کہ'سیاسی رشوت دینے کے لیے ان کے (پی ٹی آئی کی) اپنے لوگوں میں تقسیم کیے گئے تھے . انہوںنے کہاکہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو مالی سال 19 کے بجٹ میں 319 ارب روپے دیے گئے تھے اور اب انہیں 460 ارب روپے درکار ہیں لیکن ان کا بجٹ 91 ارب روپے تک کم کر دیا گیا تھا اور دیگر منصوبوں کیلئے کوئی فنڈز نہیں رکھے گئے جو کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے .
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ حکومت کو نئے بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کے لیے گزشتہ مالی سال کے اہداف کو بحال کرنا ہو گا . انہوں نے کہا کہ حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ شرائط سمیت دیگر رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا لیکن وہ مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی بجٹ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرے گی . انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت ترقیاتی بجٹ کو 700 ارب روپے تک بڑھانے کی کوشش کرے گی .

. .
Ad
متعلقہ خبریں