بلوچستان اسمبلی ‘ ضلع پشین کو ڈویژن کا درجہ دینے کی قرارد محرک کی عدم موجودگی کے باعث موخر

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی نے ژوب بائی پاس منصوبہ پر فی الفور عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنانے،پیدائش کے اندراج کیلئے 20 سال کے بجائے عمر کی حد 30 سال کرنے، قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 260 کو قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں تقسیم کرنے اور ڈاکٹر مہر اللہ ترین کو سرکاری سطح پر شہید قرار دینے سے متعلق چار قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں، ضلع پشین کو ڈویژن کا درجہ دینے کی قرارد محرک کی عدم موجودگی کے باعث موخر کردی گئی۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو 40 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن(ر)عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں شروع ہو اجلاس میں جمعیت علما اسلام کے رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ژوب شہر کے درمیان سے روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان سے خیبر پختونخواہ اور پنجاب جانے والی بھاری گاڑیاں جن میں ٹرک اور ٹریلر شامل ہیں گزرتے ہیں جس کی وجہ سے ژوب شہر میں ہمہ وقت شدید ٹریفک جام رہتا ہے جس کی وجہ سے روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے خاص طور پر ایمرجنسی کی صورتحال میں ایمبولینسز میں موجود مریض بروقت اسپتالوں میں نہ پہنچنے کی وجہ سے راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں اس کے علاوہ کاروباری سرگرمیاں اور تعلیمی نظام بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔
ان تمام مشکلات کے سدباب کے لئے ژوب بائی پاس منصوبہ جو شہر کو بھاری ٹریفک کے دباو سے نجات دلانے کے لئے ازحد ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات کے سدباب کی خاطر این ایچ اے کی جانب سے اس منصوبہ کی مالی بولی 25 اپریل 2024 میں کھولی گئی لیکن تقریبا ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مذکورہ منصوبے کا ٹھیکہ نہ تو کسی ٹھکیدار کو ایوارڈ کیا اور نہ ہی اس پر اب تک کام کا آغاز ہوا ہے، یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر وفاقی حکومت اور این ایچ اے سے رجوع کرے کہ ژوب کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ منصوبے پر فی الفور عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
اپنی قرارداد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم منصوبہ ہے جس پر عمل درآمد سے ژوب کے عوام کو مشکلات سے نجات مل جائے گی۔ سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ژوب بائی پاس کی تعمیر ناگزیر ہے۔ صوبائی حکومت اس کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لے۔ پاکستام مسلم لیگ (ن) کے زرک مندوخیل اور جمعیت علما اسلام کے اصغر علی ترین نے بھی قرارداد کی حمایت کی، بعد ازاں ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
اجلاس میں جمعیت علما اسلام کے رکن فضل قادر مندوخیل نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان محکمہ بلدیات و دیہی ترقی نے 21 جنوری 2021 کو پیدائش کے اندراج کا جدول اور فیس مقرر کرنے کی بابت ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے تحت لیٹ اندراج کی صورت میں 10 سال سے زائد اور 20 سال سے کم چیئرمین، ایڈمنسٹریٹر، مقامی کونسل بعداز تصدیق رہائش بتوسط متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو اسپتال جبکہ 20 سال سے زائد عمر ہونے پر درخواست دہندہ سول جج کی عدالت سے رجوع کرئے گا، مذکورہ اعلامیہ سے صوبہ کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے چونکہ صوبے کے عوام کی اکثریت غریب آبادی پر مشتمل ہے اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ سول جج کی عدالت میں اپنی درخواستیں دائر کرنے کی بابت وکلا کی خدمات حاصل کرسکیں لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ لیٹ اندراج کے لئے 20 سال کے بجائے 30 سال عمر کرنے اور سول جج کی بجائے اختیارات چیئرمین و ایڈمنسٹریٹر مقامی کونسل کو تفویض کرنے کی بابت ضروری اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے تاکہ صوبے کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی۔ جمعیت علما اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ این اے 260 رخشان ڈویژن رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بلوچستان کا سب سے بڑا قومی اسمبلی کا حلقہ ہے اور رخشاں ڈویژن پسماندہ ترین علاقوں پر مشتمل ہے، یہاں کے عوام غربت اور پسماندگی کی زندگی گزاررہے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ رخشان ڈویژن جو قومی اسمبلی کے ایک حلقے پر مشتمل ہے کو قومی اسمبلی کے دو حلقے بنانا ازحد ضروری ہے۔
