مائنز اینڈ منرل ایکٹ اٹھارویں ترمیم پر حملہ ہے ، پشتون قوم پرست مترقی جماعتیں
جہاں جہاں قدرتی وسائل وہاں سیکورٹی کے مسائل ہے گزشتہ 78سالوں سے پشتونوں اور بلوچوں کے وسائل کو بے دردی سیلوٹا جارہاہے

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پشتون قوم پرست مترقی جماعتوں کے رہنماوں نے کہا ہے کہ جہاں جہاں قدرتی وسائل وہاں سیکورٹی کے مسائل ہے گزشتہ 78سالوں سے پشتونوں اور بلوچوں کے وسائل کو بے دردی سیلوٹا جارہاہے جنت نظیر وطن کے مالک ہونے کے باوجود پشتون بلوچ اقوام دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے ترس رہے ہیں مائنز اینڈ منرل ایکٹ اٹھارویں ترمیم پر حملہ ہے۔
اس کے خلاف ہر محاذ پر جہد جاری رہیگی افغان کڈوال کو اپنے گھر بار سے بیدخل کر یہاں آباد کیا گیا 45 سال گزرنے کے بعد مقصد پورا ہونے پران کیساتھ جس انداز میں پیش ہورہے ہیں وہ انسانیت سے گری ہوئی عمل ہے جس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں پشتون بلوچ سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی حراست ان پر مقدمات کی بھرمار مارشل لا دور کی یاد دلاتا ہے آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج کاحق ملکی ائین دیتا ہے ان آوازوں کو خاموش کرانا کسی صورت ریاست کے مفاد میں نہیں۔
ان خیالات کا اظہار باچاخان چوک دکی میں پشتون قوم پرست مترقی جماعتوں کے زیر اہتمام احتجاجی جلسے کے شرکا سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ولی داد میانی ضلعی صدر عزت خان ناصر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نعمت جلال زئی پروفیسر اسد صاحب وزیر ناصر نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایڈووکیٹ شریف کاکڑ حیات خان حیات اور روزی خان ایثار کامریڈ عصمت واحد جعفر اور دیگر نے خطاب کے دوران کیا جلسہ کی صدارت عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر عزت خان ناصر نے کی جس میں سینکڑوں افراد شریک رہے ۔
مقررین نے کہا کہ منظم پلان کے تحت پشتونوں کے جذبات سے کھلواڑ ہورہاہے مسلط کردہ دہشت گردی وسائل لوٹنے کیلئے ہے پشتون تاریخ میں کبھی دہشت گرد نہیں رہا بلکہ دہشت گردی کا شکار چلاارہاہے ان کے تاریخ اقدار وروایات کو داغدار کر کے پیش کیا جارہاہے جو حقیقت کے برخلاف عمل ہے انہوں نے کہا کہ وقت آن پہنچا ہے کہ پشتون مترقی قوم پرست قوتیں ملکر مشترکہ مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد اپنائیں ورنہ فنا ہونے میں شاید ہی دیر لگے۔
