بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا سے سابق رکن اسمبلی کے خط پر لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے اقدام پر اپوزیشن ارکان کا شدید احتجاج

اسمبلی کاروائی سے واک آئوٹ، وزیراعلیٰ سمیت حکومت ارکان نے اپوزیشن کے احتجاج کو جون کے مہینے کا نتیجہ قرار دے دیا


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا سے سابق رکن اسمبلی کے خط پر لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے اقدام پر اپوزیشن ارکان کا شدید احتجاج، اسمبلی کاروائی سے واک آئوٹ، وزیراعلیٰ سمیت حکومت ارکان نے اپوزیشن کے احتجاج کو جون کے مہینے کا نتیجہ قرار دے دیا ۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 15منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ سابقہ فاٹا سے ایک سابق رکن اسمبلی حاجی شاہ جہاں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر لیویز فورس کے خاتمے کا مطالبہ کیا جس پر وزیراعظم نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایات دیں اور انہوں نے بلا تاخیر اس پر عملدآمد کرتے ہوئے لیویز کے خاتمے کے اقدامات شروع کردئیے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے فیصلے اب فاٹا کے سابق ارکان اسمبلی کریں گے یہاں کی قراردادوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی مگر کسی دوسرے صوبے کے شخص کے ایک خط کو اتنی اہمیت دی گئی کہ یہاں کے ایوان کو بھی بائی پاس کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر وزیراعظم اعلان کے باوجود عملدآمد نہیں کرو ا سکے بلوچستان کے فیصلوں کا اختیار یہاں کے لوگوں کا ہے ۔ نیشنل پارٹی کے رکن میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ایک سابق رکن اسمبلی کو بلوچستان پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ تشویشناک عمل ہے بلوچستان کی بیوروکریسی اور مقامی افسران کو کمزور کیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان اور دہشتگردی دو الگ الگ چیزیں ہیں پولیس اور لیویز کا کام الگ جبکہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے انسداد دہشتگردی کا ادارہ موجود ہے جس پر سالانہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر اسکی کارکردگی پر سوال نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو اے اور بی ایریا سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں بلوچستان کے فیصلے کون کرتا ہے وزیراعظم ہماری سینکڑوں قراردادوں کو سنجیدہ نہیں لیتے لیکن ایک سابقہ رکن قومی اسمبلی کے کہنے پر عملدآمد ہوتا ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے کہا کہ بلوچستان کے اختیارات یہاں کی اسمبلی کے پاس ہونے چاہیئں یہاں کے فیصلے کرنا بلوچستان کے لوگوں کا حق ہے اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں کہا کہ اپوزیشن جواب سن کر بے شک آئوٹ کرے تاہم اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گئے ۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے خود کررہی ہے آئین حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے اے اور بی ایریا کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے مختلف خطوط آتے ہیں جس پر کمنٹس لکھ کر آگے بھیجا جاتا ہے لیکن لیویز فورس سے متعلق فیصلہ حکومت کا ہے ۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جون کے مہینے میں اپوزیشن کی جانب سے اسطرح کے احتجاج ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر ایوان کی کاروائی کو آگے چلائیں اگر کوئی رکن نہ ہوتو اسکا ایجنڈا موخر یا نمٹا دیا جاتاہ ہے ۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن زرک خان مندوخیل نے کہا کہ کیا کوئی سابق رکن اسمبلی پاکستانی نہیں یا فاٹا پاکستان کا حصہ نہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ جون کے مہینے میں گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اپوزیشن نے ایسا کیا ہے ۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برکت رند نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن نے گزشتہ اجلاس میں الزام لگایا کہ بلوچستان کے ساحل ٹرالنگ ہورہی ہے لیکن ایسا نہیں ہورہا ، وزیراعلیٰ نے ٹرالنگ سے متعلق سختی سے ہدایات جاری کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں روزانہ گشت ہورہا ہے پسنی میں آج بھی دو مقدمات درج ہوئے جبکہ کاروائی جاری ہے ۔ مولانا ہدایت الرحمن کی سیاست ختم ہوگئی ہے وہ ویڈیوزبنانے کے لئے تقاریرکرتے ہیں ۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری مجید بادینی نے کہا کہ جعفرآباد کو آفت زدہ قرار دیا گیا تھا وہاں کے کسانوں اور زمینداروں کو زرعی قرضے معاف کئے جائیں وزیراعلیٰ سے گزارش ہے کہ کسان کارڈ پر جلد از جلد عملدآمد کروایا جائے ۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ گزشتہ تین اجلاسوں سے سریاب م…

WhatsApp
Get Alert