بلوچستان کے 36 اضلاع میں 2 ہزار 8 سو اسکولوں کو فعال کردیا گیا

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے 36 اضلاع میں سے 3 ہزار سے زائد غیر فعال اسکولوں میں سے 2 ہزار 8 سو اسکولوں کو فعال کردیا گیا ہے جبکہ 18 اضلاع میں 523 اسکول تاحال غیر فعال ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسکولز بلوچستان کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے 36 اضلاع میں ایس بی کے ٹیسٹ کے تحت تعینات ہونے والے استاتذہ کی تقرری کے بعد کل 3ہزار 3 سو 87 غیر فعال اسکولوں میں سے 2 ہزار 8 سو 64 اسکولوں کو فعال کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کے 18 اضلاع میں تمام اسکول فعال ہیں جبکہ دیگر 18 اضلاع میں غیر فعال اسکولوں کی تعداد 523 ہے جنکی فعالیت کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق فعال کئے جا نے والے اسکولوں میں 2ہزار 835پرائمری اسکول، 26 مڈل اور 3 ہائی اسکولز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بارکھان، چاغی، ڈیرہ بگٹی، دکی، ہرنائی، حب، جعفر آباد، قلات، خاران، خضدار، کوہلو، لسبیلہ، نصیرآباد، نوشکی، کوئٹہ، صحبت پور، واشک اور ژوب کے تمام غیر فعال اسکولوں کو فعال کردیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسکولز بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق آوران کے 136 غیر فعال اسکولوں میں سے 103 اسکولوں کوفعال کردیا گیا جبکہ بارکھان کے 140 غیر فعال اسکولوں میں سے 140 اسکول، چمن کے 58 غیر فعال اسکولوں میں سے 44 اسکولوں، گوادر کے 69 غیر فعال اسکولوں میں سے 54 اسکولوں، جھل مگسی کے 42 اسکولوں میں سے 27 اسکولوں، قلعہ عبد اللہ کے 130 اسکولوں میں سے 120 اسکولوں، قلعہ سیف اللہ کے 175 اسکولوں میں سے 18 اسکولوں، کچھی کے 160 اسکولوں میں سے 150اسکولوں، کیچ کے 115 اسکولوں میںسے 13 اسکولوں، لورالائی کے 108 اسکولوں میںسے 64 اسکولوں، مستونگ کے 92 اسکولوں میں سے 82 اسکولوں، موسیٰ خیل کے 108 اسکولوں میں سے 107 اسکولوں، پنجگور کے 86 اسکولوں میں سے 81 اسکولوں، پشین کے 245 اسکولوں میں سے 222 اسکولوں، شیرانی کے 59 اسکولوں میں سے 44 اسکولوں، سبی کے 83 اسکولوں میں سے 48 اسکولوں، سوراب کے 71 اسکولوں میں سے 62 اسکولوں، اوستہ محمد کے 91 اسکولوں میں سے 70 اسکولوں، زیارت کے 62 اسکولوں میں سے 58 اسکولوں کو فعال کردیا گیا۔
